تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصْطَنَعْتُكَلِنَفْ٘سِیْ﴾”اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔“ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {واصطنعتُك لنفسي}؛ أي: أجريت عليك صنائعي ونعمي وحسن عوائدي وتربيتي؛ لتكون لنفسي حبيباً مختصًّا، وتبلغ في ذلك مبلغاً لا ينالُه أحدٌ من الخلق إلاَّ النادر منهم.
وإذا كان الحبيب إذا أراد اصطناع حبيبه من المخلوقين، وأراد أن يبلغ من الكمال المطلوب له ما يبلغ؛ يبذُلُ غايةَ جهدِهِ ويسعى نهايةَ ما يمكِنُه في إيصاله لذلك؛ فما ظنُّك بصنائع الربِّ القادر الكريم؟! وما تحسبُه يفعلُ بمن أراده لنفسِهِ، واصطفاه من خلقِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔