تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَیْنُسَبِّحَكَكَثِیْرًاۙ۰۰وَّنَذْكُرَكَكَثِیْرًا﴾موسیٰ علیہ السلام کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الفائدة في ذلك، فقال: {كي نسبِّحكَ كثيراً. ونذكُرَكَ كثيراً}: علم عليه الصلاة (والسلام) أنَّ مدار العباداتِ كلِّها والدينِ على ذِكْرِ الله، فسأل الله أن يجعلَ أخاه معه يتساعدان ويتعاونان على البرِّ والتقوى، فيكثر منهما ذِكْرُ الله من التسبيح والتهليل وغيره من أنواع العبادات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔