(آیت 34،33){ كَيْنُسَبِّحَكَكَثِيْرًا …:} یعنی ان دعاؤں سے ہمیں کوئی دنیاوی مفاد مقصود نہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تعاون سے تیری تسبیح اور تیرا ذکر بہت زیادہ کر سکیں گے، مثلاً دنیوی ضروریات آپس میں تقسیم کر لیں گے تو تسبیح و ذکر اور دعوت کے لیے زیادہ وقت نکل سکے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ تاکہ ہم تسبیح بیان کریں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَیْنُسَبِّحَكَكَثِیْرًاۙ۰۰وَّنَذْكُرَكَكَثِیْرًا﴾موسیٰ علیہ السلام کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الفائدة في ذلك، فقال: {كي نسبِّحكَ كثيراً. ونذكُرَكَ كثيراً}: علم عليه الصلاة (والسلام) أنَّ مدار العباداتِ كلِّها والدينِ على ذِكْرِ الله، فسأل الله أن يجعلَ أخاه معه يتساعدان ويتعاونان على البرِّ والتقوى، فيكثر منهما ذِكْرُ الله من التسبيح والتهليل وغيره من أنواع العبادات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔