تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 135

قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اہۡتَدٰی ﴿۱۳۵﴾٪
کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔ En
کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)
En
کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو ﴿ قُ٘لْ كُ٘لٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں۔ ﴿قُ٘لْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ (التوبۃ:9؍52) کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا (التوبۃ:9؍52) اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔
﴿ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ اَصْحٰؔبُ الصِّ٘رَاطِ السَّوِیِّ پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں؟ ﴿ وَمَنِ اهْتَدٰؔى اور کون ہدایت یافتہ ہے؟ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل}: يا محمد مخاطباً للمكذِّبين لك الذين يقولونَ تربَّصوا به ريَبْ المنون: {قُلْ كلٌّ متربِّصٌ}: فتربَّصوا بي الموت، وأنا أتربَّص بكم العذاب، {قل هل تَرَبَّصون بنا إلا إحدى الحُسْنَيَيْنِ}؛ أي: الظفر أو الشهادة؛ فنحن نتربَّص بكم أن يصيبَكم اللهُ بعذابٍ من عنده أو بأيدينا. {فَتَرَبَّصوا فستعلمونَ مَنْ أصحابُ الصِّراطِ السويِّ}؛ أي: المستقيم، {ومَنِ اهْتَدى}: بسلوكِهِ أنا أم أنتُم؛ فإنَّ صاحبه هو الفائزُ الراشدُ الناجي المفلحُ، ومَنْ حادَ عنه خاسرٌ خائبٌ معذَّب. وقد عُلِمَ أنَّ الرسول هو الذي بهذه الحالة، وأعداؤه بخلافه. والله أعلم.