قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اہۡتَدٰی ﴿۱۳۵﴾٪
کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔
En
کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)
En
کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 135) ➊ { قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا …: ” كُلٌّ “} کی تنوین اس کے محذوف مضاف الیہ کی جگہ آئی ہے، یعنی {”كُلُّ وَاحِدٍ“} ہر ایک، مطلب یہ ہے کہ اگر پہلی کتابوں میں موجود واضح دلائل تمھارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں اور تمھیں اپنی مرضی کی نشانی دیکھنے پر اصرار ہے تو تم ایمان لانے کے لیے نشانی کا انتظار کرتے رہو، ہم تمھارے لیے دنیا میں اللہ کی گرفت اور آخرت میں اس کے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جلد ہی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور وہ کون ہے جس نے ہدایت پالی ہے؟ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے راہ حق پر ہونے کے یقین کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ اتنے دعوے سے یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے حق پر ہونے کا مکمل یقین ہو۔
➋ {فَتَرَبَّصُوْا:} امر کے ساتھ اگر قرینہ بھی ہو تو وہ دوام کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ یہ ہے کہ انتظار اس وقت تک جاری رہنا ہے جب تک وہ چیز وجود میں نہ آئے جس کا انتظار ہے۔ انتظار کا یہ حکم وعید اور خبردار کرنے کے لیے ہے۔ اسے متارکہ کہتے ہیں، یعنی ہم نے تمھیں تمھاری انتظار کی حالت پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ ہمیں تمھارے برے انجام کا یقین ہے۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳۰) اور سورۂ توبہ (۵۲) تاریخ شاہد ہے کہ بہت جلد کفار کو مسلمانوں کا راہ راست پر ہونا معلوم ہو گیا۔ بدر کے دن ان کو جو اسلام نہیں لائے، مثلاً ابوجہل اور کفر و شرک کے دوسرے ہلاک ہونے والے سردار اور ان کو بھی جو مسلمان ہو گئے، مثلاً ابوسفیان اور خالد بن ولید رضی اللہ عنھما اور ان سب کو جنھوں نے جزیرۂ عرب، شام، عراق، ایران، مصر اور پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔ ”جلد ہی جان لو گے“ میں یہ بھی شامل ہے کہ بہت جلد قیامت کے دن تمھیں اس بات کا علم الیقین اور عین الیقین حاصل ہو جائے گا۔ کیونکہ {”كُلُّ آتٍ قَرِيْبٌ“} کہ آنے والی ہر چیز قریب ہی ہے۔
➋ {فَتَرَبَّصُوْا:} امر کے ساتھ اگر قرینہ بھی ہو تو وہ دوام کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ یہ ہے کہ انتظار اس وقت تک جاری رہنا ہے جب تک وہ چیز وجود میں نہ آئے جس کا انتظار ہے۔ انتظار کا یہ حکم وعید اور خبردار کرنے کے لیے ہے۔ اسے متارکہ کہتے ہیں، یعنی ہم نے تمھیں تمھاری انتظار کی حالت پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ ہمیں تمھارے برے انجام کا یقین ہے۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳۰) اور سورۂ توبہ (۵۲) تاریخ شاہد ہے کہ بہت جلد کفار کو مسلمانوں کا راہ راست پر ہونا معلوم ہو گیا۔ بدر کے دن ان کو جو اسلام نہیں لائے، مثلاً ابوجہل اور کفر و شرک کے دوسرے ہلاک ہونے والے سردار اور ان کو بھی جو مسلمان ہو گئے، مثلاً ابوسفیان اور خالد بن ولید رضی اللہ عنھما اور ان سب کو جنھوں نے جزیرۂ عرب، شام، عراق، ایران، مصر اور پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔ ”جلد ہی جان لو گے“ میں یہ بھی شامل ہے کہ بہت جلد قیامت کے دن تمھیں اس بات کا علم الیقین اور عین الیقین حاصل ہو جائے گا۔ کیونکہ {”كُلُّ آتٍ قَرِيْبٌ“} کہ آنے والی ہر چیز قریب ہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
135۔ 1 یعنی مسلمان اور کافر دونوں اس انتظار میں ہیں کہ دیکھو کفر غالب رہتا ہے یا اسلام غالب آتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
135۔ آپ ان سے کہئے کہ: ”ہر ایک انجام کار کا منتظر ہے لہذا تم بھی انتظار کرو۔ جلد ہی [103] تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ (ہم میں سے) کون راہ راست پر ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے“
[103] یعنی اب تم بھی اور ہم بھی بلکہ سارے کا سارا عرب اس انتظام میں ہے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لہٰذا انتظار کرو۔ عنقریب سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون سا فریق سیدھی راہ پر گامزن ہے؟ زمانہ کی گردش کس پر پڑتی ہے اور تباہ کون ہوتا ہے؟ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ”اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو“ ﴿ قُ٘لْ كُ٘لٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ”کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔“ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں۔ ﴿قُ٘لْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ﴾ (التوبۃ:9؍52) ”کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟“ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا﴾ (التوبۃ:9؍52) ”اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔“
﴿ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ اَصْحٰؔبُ الصِّ٘رَاطِ السَّوِیِّ﴾ ”پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں؟“ ﴿ وَمَنِ اهْتَدٰؔى ﴾ ”اور کون ہدایت یافتہ ہے؟“ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: يا محمد مخاطباً للمكذِّبين لك الذين يقولونَ تربَّصوا به ريَبْ المنون: {قُلْ كلٌّ متربِّصٌ}: فتربَّصوا بي الموت، وأنا أتربَّص بكم العذاب، {قل هل تَرَبَّصون بنا إلا إحدى الحُسْنَيَيْنِ}؛ أي: الظفر أو الشهادة؛ فنحن نتربَّص بكم أن يصيبَكم اللهُ بعذابٍ من عنده أو بأيدينا. {فَتَرَبَّصوا فستعلمونَ مَنْ أصحابُ الصِّراطِ السويِّ}؛ أي: المستقيم، {ومَنِ اهْتَدى}: بسلوكِهِ أنا أم أنتُم؛ فإنَّ صاحبه هو الفائزُ الراشدُ الناجي المفلحُ، ومَنْ حادَ عنه خاسرٌ خائبٌ معذَّب. وقد عُلِمَ أنَّ الرسول هو الذي بهذه الحالة، وأعداؤه بخلافه. والله أعلم.