تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 121

فَاَکَلَا مِنۡہَا فَبَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ۫ وَ عَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾۪ۖ
پس دونوں نے اس میں سے کھا لیا تو دونوں کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں اپنے آپ پر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا۔ En
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
En
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

شیطان آدم علیہ السلام کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدم علیہ السلام سے بات چیت کی۔ آدم علیہ السلام اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواء علیہما السلام نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأتاه بصورة ناصح، وتلطَّف له في الكلام؛ فاغترَّ به آدمُ، فأكلا من الشجرةِ، فسُقِطَ في أيديهما وسَقَطَتْ كسوتُهما، واتَّضحت معصيتُهما، وبدا لكلٍّ منهما سوأة الآخر بعد أن كانا مستورَيْن، وجعلا يَخْصِفان على أنفسهما من ورق أشجار الجنَّة؛ ليستَتِر بذلك، وأصابهما من الخجل ما الله به عليم. {وعصى آدم ربه فغوى}: فبادرا إلى التوبة والإنابة وقالا: