پس دونوں نے اس میں سے کھا لیا تو دونوں کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں اپنے آپ پر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا۔
En
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا
En
اس آیت کی تفسیر آیت 120 میں تا آیت 122 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
121۔ 1 یعنی درخت کا پھل کھا کر نافرمانی کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب یا راہ راست سے بہک گئے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
121۔ آخر ان (دونوں) نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس سے ان کے ستر کے مقامات ایک دوسرے کے آگے کھل گئے تو وہ جنت کے پتوں سے [87] انھیں ڈھانکنے لگے گئے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہذا وہ بھٹک گئے۔
[87] پھل چکنے کا فوری رد عمل:۔
جنت کا پھل کھانے کا رد عمل فوری طور پر تو یہ ہوا کہ ان سے جنت کا لباس چھین لیا گیا اور آدم و حوا دونوں بے حجاب ہو گئے اور انھیں ایک دوسرے کے مقامات ستر نظر آنے لگے اور سخت شرم محسوس ہوئی تو جنت کے درختوں کے پتے ایک دورے پر چپکا کر مقامات ستر کو ڈھانپنے لگے۔ ابھی بھوک اور پیاس کا احساس تو کچھ دیر کے بعد ہی ہونا تھا۔ اور انھیں فوراً پتا چل گیا کہ شیطان انھیں جل دے گیا اور وہ اس کے فریب میں آگئے ہیں۔ اس وقت انھیں اللہ سے کیا ہوا وعدہ یاد آ گیا اور فوراً اللہ کی طرف رجوع کیا اور توبہ استغفار کرنے لگے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
شیطان آدم علیہ السلام کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدم علیہ السلام سے بات چیت کی۔ آدم علیہ السلام اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواء علیہما السلام نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
﴿وَعَصٰۤىاٰدَمُرَبَّهٗفَغَوٰى﴾”اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔“ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأتاه بصورة ناصح، وتلطَّف له في الكلام؛ فاغترَّ به آدمُ، فأكلا من الشجرةِ، فسُقِطَ في أيديهما وسَقَطَتْ كسوتُهما، واتَّضحت معصيتُهما، وبدا لكلٍّ منهما سوأة الآخر بعد أن كانا مستورَيْن، وجعلا يَخْصِفان على أنفسهما من ورق أشجار الجنَّة؛ ليستَتِر بذلك، وأصابهما من الخجل ما الله به عليم. {وعصى آدم ربه فغوى}: فبادرا إلى التوبة والإنابة وقالا:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔