تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 111

وَ عَنَتِ الۡوُجُوۡہُ لِلۡحَیِّ الۡقَیُّوۡمِ ؕ وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمًا ﴿۱۱۱﴾
اور سب چہرے اس زندہ رہنے والے، قائم رکھنے والے کے لیے جھک جائیں گے اور یقینا ناکام ہوا جس نے بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ En
اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا
En
تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔
(۱) اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا یَخٰؔفُ ظُلْمًا پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضْمًا اور نہ حق تلفی کا۔ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا: ﴿وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (النساء:4؍40) اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وينقسم الناسُ في ذلك الموقف قسمين: ظالمين بكفرِهم وشرِّهم؛ فهؤلاء لا ينالُهم إلاَّ الخيبة والحرمان والعذاب الأليم في جهنَّم وسخطُ الدَّيَّان. والقسم الثاني: مَنْ آمَنَ الإيمان المأمور به، وعمل صالحاً من واجب ومسنون؛ {فلا يخافُ ظلماً}؛ أي: زيادة في سيئاتِهِ. {ولا هَضْماً}؛ أي: نقصاً من حسناته، بل تُغْفَرُ ذنوبُهُ وتُطَهَّرُ عيوبه وتضاعَفُ حسناتُهُ، {وإن تَكُ حسنةً يضاعِفْها ويؤتِ من لَدُنْه أجراً عظيماً}.