(آیت 11) ➊ {وَعَنَتِالْوُجُوْهُلِلْحَيِّالْقَيُّوْمِ: ”عَنَتْ“”عَنَايَعْنُوْعُنُوًّا“} (ن) سے واحد مؤنث غائب، ماضی معلوم ہے، اصل میں {”عَنَوَتْ“} تھا، ذلیل اور عاجز ہو کر جھک جانا۔ اس میں سے اسم فاعل {”عَانٍ“} یا {”اَلْعَانِيْ“} آتا ہے، جس کا معنی قیدی ہے، کیونکہ قیدی بے حد عاجز، بے بس اور ذلیل ہوتا ہے۔ یعنی اس دن صرف تمام آوازیں ہی رحمان کے لیے پست نہیں ہوں گی بلکہ تمام چہرے، حتیٰ کہ ان سرکش متکبر لوگوں کے چہرے بھی اس حی و قیوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے جن کی پیشانی دنیا میں کبھی اللہ کے سامنے جھکی نہ تھی۔ کیونکہ وہ سب فانی و محتاج ہیں اور انھیں حی و قیوم کے سامنے جھکے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ {”لِلْحَيِّالْقَيُّوْمِ“} کی تفسیر آیت الکرسی (بقرہ: ۲۵۵) میں دیکھیے۔ ➋ { وَقَدْخَابَمَنْحَمَلَظُلْمًا:} یہاں {”ظُلْمًا“} پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا“ کیا ہے۔ بڑے ظلم سے مراد مشرک ہونا اور مسلمان نہ ہونا ہے۔ (طبری) اس کا ترجمہ ”کسی ظلم کا بوجھ اٹھایا“ درست نہیں، کیونکہ گناہ گار مومن و موحد سزا پا کر یا سزا کے بغیر اللہ کے اذن سے جنت میں چلے جائیں گے اور جنت میں پہنچ جانے والا ناکام نہیں۔ دلیل اور تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۸۲)، بقرہ (۲۵۴) اور یونس (۱۰۶) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
111۔ 1 اس لئے کہ اس روز اللہ تعالیٰ مکمل انصاف فرمائے گا اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دلائے گا۔ حتٰی کہ اگر ایک سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کا بھی بدلہ دلایا جائے گا، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا " لتؤدن الحقوق الی اھلھا " ' ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دو ' ورنہ قیامت کو دینا پڑے گا۔ دوسری حدیث میں فرمایا (اِیَّاکُمْ و الظُّلْمَفَاِنَّالظُلْمَظُلُمَات،ُیَوْمَالْقِیَامَۃِ)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
111۔ سب چہرے اس زندہ و پائندہ ہستی کے سامنے جھک جائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ وہ نامراد ہوا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔
(۱) اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَایَخٰؔفُظُلْمًا ﴾”پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔“ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَاهَضْمًا﴾”اور نہ حق تلفی کا۔“ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا: ﴿وَاِنْتَكُحَسَنَةًیُّضٰعِفْهَاوَیُؤْتِمِنْلَّدُنْهُاَجْرًاعَظِیْمًا﴾ (النساء:4؍40) ”اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وينقسم الناسُ في ذلك الموقف قسمين: ظالمين بكفرِهم وشرِّهم؛ فهؤلاء لا ينالُهم إلاَّ الخيبة والحرمان والعذاب الأليم في جهنَّم وسخطُ الدَّيَّان. والقسم الثاني: مَنْ آمَنَ الإيمان المأمور به، وعمل صالحاً من واجب ومسنون؛ {فلا يخافُ ظلماً}؛ أي: زيادة في سيئاتِهِ. {ولا هَضْماً}؛ أي: نقصاً من حسناته، بل تُغْفَرُ ذنوبُهُ وتُطَهَّرُ عيوبه وتضاعَفُ حسناتُهُ، {وإن تَكُ حسنةً يضاعِفْها ويؤتِ من لَدُنْه أجراً عظيماً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔