اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا، پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور سنو۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا اور نہیں مانا، اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں اس بچھڑے کی محبت پلادی گئی۔ کہہ دے بری ہے وہ چیز جس کا حکم تمھیں تمھارا ایمان دیتا ہے، اگر تم مومن ہو۔
En
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور کو کھڑا کردیا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور سنو! تو انہوں نے کہا، ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت (گویا) پلا دی گئی بسبب ان کے کفر کے۔ ان سے کہہ دیجیئے کہ تمہارا ایمان تمہیں برا حکم دے رہا ہے، اگر تم مومن ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِذْاَخَذْنَامِیْثَاقَكُمْوَرَفَعْنَافَوْقَكُمُالطُّوْرَ١ؕخُذُوْامَاۤاٰتَیْنٰؔكُمْبِقُوَّةٍوَّاسْمَعُوْا﴾”اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو“ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو ﴿ قَالُوْاسَمِعْنَاوَعَصَیْنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ”وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔“﴿ وَاُشْرِبُوْافِیْقُ٘لُ٘وْبِهِمُالْعِجْلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔
﴿ قُلْبِئْسَمَایَاْ٘مُرُؔكُمْبِهٖۤاِیْمَانُكُمْاِنْكُنْتُمْمُّؤْمِنِیْنَ﴾”انھیں کہہ دیجیے کہ تمھارا ایمان تمھیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو“ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو۔ اور تمھاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کوقتل کیا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے، تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (یعنی اوامر و نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمھیں دھمکی نہ دی گئی اور کوہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کر دیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کر لیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟
تمھارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمھیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تضاد عیاں ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذ أخذنا ميثاقكم ورفعنا فوقكم الطور خذوا ما آتيناكم بقوة واسمعوا}؛ أي: سماع قبول وطاعة واستجابة، {قالوا سمعنا وعصينا}؛ أي: صارت هذه حالتهم {وأشربوا في قلوبهم العجل}؛ أي: صُبِغ حب العجل وحب عبادته في قلوبهم وشربها بسبب كفرهم {قل بئسما يأمركم به إيمانكم إن كنتم مؤمنين}؛ أي: أنتم تدعون الإيمان وتتمدحون بالدين الحق وأنتم قتلتم أنبياء الله واتخذتم العجل إلهاً من دون الله لمَّا غاب عنكم موسى نبي الله، ولم تقبلوا أوامره ونواهيه إلا بعد التهديد وَرَفْعِ الطور فوقكم، فالتزمتم بالقول ونقضتم بالفعل، فما هذا الإيمان الذي ادعيتم؟ وما هذا الدين؟ فإن كان هذا إيماناً على زعمكم، فبئس الإيمان الداعي صاحبه إلى الطغيان والكفر برسل الله وكثرة العصيان، وقد عُهِد أن الإيمان الصحيح يأمر صاحبه بكل خير وينهاه عن كل شرٍّ، فوضح بهذا كذبهم وتبين تناقضهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔