تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 92

وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۹۲﴾
اور بلاشبہ یقینا موسیٰ تمھارے پاس واضح نشانیاں لے کر آیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑا بنا لیا اور تم ظالم تھے۔ En
اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے
En
تمہارے پاس تو موسیٰ یہی دلیلیں لے کر آئے لیکن تم نے پھر بھی بچھڑا پوجا تم ہو ہی ﻇالم En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰؔى بِالْبَیِّنٰتِ یعنی تمھارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ ثُمَّؔ اتَّؔخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ یعنی تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ﴿ وَاَنْتُمْ ظٰ٘لِمُوْنَ اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے اور تمھارے پاس کوئی عذر نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد جاءكم موسى بالبينات}؛ أي: بالأدلة الواضحات المبينة للحق {ثم اتخذتم العجل من بعده}؛ أي: بعد مجيئه {وأنتم ظالمون}؛ في ذلك ليس لكم عذر.