تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 89

وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚۖ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾
اور جب ان کے پاس اللہ کے ہاں سے ایک کتاب آئی جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے، حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے انھوں نے پہچان لیا تو انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔ En
اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت
En
اور ان کے پاس جب اللہ تعالیٰ کی کتاب ان کی کتاب کو سچا کرنے والی آئی، حاﻻنکہ پہلے یہ خود (اس کے ذریعہ) کافروں پر فتح چاہتے تھے تو باوجود آجانے اور باوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کافروں پر En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مطلب یہ ہے کہ جب افضل المخلوقات اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب آ گئی جو ان تعلیمات کی تصدیق کرتی تھی جنھیں تورات نے پیش کیا، جس کا ان کو علم اور یقین تھا۔ علاوہ ازیں جاہلیت کے زمانے میں جب کبھی ان کے اور مشرکین کے درمیان جنگ ہوتی تو یہ دعا کیا کرتے تھے (اے اللہ) اس نبی کے ذریعے سے ہماری مدد فرما اور وہ مشرکین کو ڈرایا کرتے تھے کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ وہ اس نبی کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ کریں گے۔ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور وہ نبی آ گیا جس کو انھوں نے پہچان لیا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو ماننے سے انکار کر دیا (اور انھیں حسد اس بات پر تھا) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل فرماتا ہے۔ (اللہ نے یہ شرف نبوت ان کی بجائے، کسی اور کو کیوں دے دیا؟) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور ان پر سخت غضب ناک ہوا، کیونکہ کفر میں وہ بہت بڑھ گئے تھے اور متواتر شک اور شرک میں مبتلا چلے آ رہے تھے۔
اور ان کافروں کے لیے آخرت میں ﴿ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ رسوا کرنے والا عذاب ہو گا اور وہ یہ کہ ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور دائمی نعمتوں سے وہ محروم ہوں گے۔ پس بہت برا ہے ان کا حال، بہت ہی برا ہے وہ معاوضہ جو انھوں نے اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کے مقابلے میں حاصل کیا اور وہ یہ کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ، اس کی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ حالانکہ وہ سب کچھ جانتے تھے اور انھیں رسولوں کی صداقت کا بھی یقین تھا اسی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ولما جاءهم [كتابٌ]} من عند الله على يد أفضل الخلق وخاتم الأنبياء، المشتمل على تصديق ما معهم من التوراة، وقد علموا به، وتيقنوه على أنهم إذا كان وقع بينهم وبين المشركين في الجاهلية حروب استنصروا بهذا النبي وتوعدوهم بخروجه، وأنهم يقاتلون المشركين معه، فلما جاءهم هذا الكتاب والنبي الذي عرفوا؛ كفروا به بغياً وحسداً أن ينزل الله من فضله على من يشاء من عباده، فلعنهم الله وغضب عليهم غضباً بعد غضب؛ لكثرة كفرهم وتوالي شكهم وشركهم، ولهم في الآخرة عذاب مهين أي مؤلم موجع، وهو صلْيُ الجحيم وفوت النعيم المقيم، فبئس الحال حالهم، وبئس ما استعاضوا واستبدلوا من الإيمان بالله وكتبه ورسله، الكفر به وبكتبه وبرسله مع علمهم وتيقنهم، فيكون أعظمَ لعذابهم.