تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 88

وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾
اور انھوں نے کہا ہمارے دل غلاف میں (محفوظ) ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ En
اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں
En
یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نے ملعون کردیا ہے، ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ ان کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں تو یہ لوگ معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہوئے ہیں، یعنی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اس لیے ہم تمھاری بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ گویا یہ ان کے گمان کے مطابق عدم علم کا عذر ہے اور یہ ان کا جھوٹ ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُ٘فْرِهِمْ یعنی وہ اپنے کفر کے سبب سے ملعون اور دھتکارے ہوئے ہیں اس لیے ان میں سے بہت ہی قلیل لوگ ایمان لائیں گے۔ یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کا ایمان بہت ہی قلیل ہے اور ان کا کفر بہت زیادہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: اعتذروا عن الإيمان لما دعوتهم إليه يا أيها الرسول بأن قلوبهم غلف أي عليها غلاف وأغطية فلا تفقه ما تقول، يعني فيكون لهم ـ بزعمهم ـ عذر لعدم العلم، وهذا كذب منهم، فلهذا قال تعالى: {بل لعنهم الله بكفرهم}؛ أي: أنهم مطرودون ملعونون بسبب كفرهم؛ فقليلاً المؤمن منهم، أو قليلاً إيمانهم، وكفرهم هو الكثير.