تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 82

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے
En
اور جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں وه جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور اعمال صالحہ کیے اور اعمال مندرجہ ذیل دو شرائط کے بغیر اعمال صالحہ کے زمرے میں نہیں آتے۔ (۱) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہوں۔
ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ نجات اور فوز و فلاح کے مستحق صرف نیک کام کرنے والے اہل ایمان ہیں اور ہلاک ہونے والے جہنمی، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين آمنوا}؛ بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر {وعملوا الصالحات}؛ ولا تكون الأعمال صالحة إلا بشرطين: أن تكون خالصة لوجه الله، متبعاً بها سنة رسوله.

فحاصل هاتين الآيتين أن أهل النجاة والفوز أهل الإيمان والعمل الصالح، والهالكون أهل النار المشركون بالله الكافرون به.