تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 81

بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾
کیوں نہیں! جس نے بڑی برائی کمائی اور اسے اس کے گناہ نے گھیر لیا تو وہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
En
یقیناً جس نے بھی برے کام کئے اور اس کی نافرمانیوں نے اسے گھیر لیا، وه ہمیشہ کے لئے جہنمی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلٰی یعنی معاملہ یوں نہیں جس طرح تم نے بیان کیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ﴿ مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً جس نے کوئی برائی کمائی یہاں ﴿سَیِّئَۃً برائی شرط کے سیاق میں نکرہ استعمال ہوئی ہے لہٰذا اس کے عموم میں شرک اور اس سے کمتر تمام برائیاں داخل ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد شرک ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿ وَّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓ٘ـــَٔتُهٗ یعنی برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی برائی نے گھیر لیا اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور یہ شرک کے علاوہ کوئی اور برائی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو ایمان سے بہرہ ور ہے برائی اسے گھیر نہیں سکتی۔
﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ پس وہ آگ کے مستحق ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اس آیت کریمہ سے خوارج نے استدلال کیا ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے حالانکہ یہ تو ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ یہ تو ظاہری طور پر شرک کے بارے میں ہے۔ اس طرح ہر باطل پسند جو قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اپنے باطل نظریئے پر استدلال کرتا ہے تو استدلال خود اس کے خلاف ایک قوی دلیل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{من كسب سيئة}؛ وهو نكرة في سياق الشرط؛ فيعم الشرك فما دونه، والمراد به الشرك، هنا بدليل قوله: {وأحاطت به خطيئته}؛ أي: أحاطت بعاملها فلم تدع له منفذاً، وهذا لا يكون إلا الشرك، فإن من معه الإيمان لا تحيط به خطيئته، {فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون}؛ وقد احتج بها الخوارج على كفر صاحب المعصية، وهي حجة عليهم كما ترى، فإنها ظاهرة في الشرك، وهكذا كل مُبْطِل يحتَجُّ بآية أو حديث صحيح على قوله الباطل؛ فلا بد أن يكون فيما احتج به حجة عليه.