تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
”اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنے آپ کو اللہ کی رضاجوئی میں اور اللہ بڑا مہربان ہے بندوں پر۔“ یہی لوگ توفیق یافتہ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کو ارزاں داموں میں بیچ دیا اور اللہ کی رضا کے حصول اور ثواب کی امید پر اپنی جانوں کو قربان کردیا۔ پس انھوں نے، بندوں کے ساتھ انتہائی مہربان، پورا بدلہ دینے والے مال دار کو قیمت ادا کی ہے، وہ مہربان کہ جس کی شفقت و رحمت ہی سے ہے کہ اس نے ان کو اس قربانی کی توفیق بخشی۔ اور اس نے اس قربانی کے پورے بدلے کا وعدہ فرمایا ﴿ اِنَّاللّٰهَاشْتَرٰىمِنَالْمُؤْمِنِیْنَاَنْفُسَهُمْوَاَمْوَالَهُمْبِاَنَّلَهُمُالْجَنَّةَ ﴾ (التوبۃ:9؍111)”بے شک اللہ نے خرید لیا ہے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور مالوں کو، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ مومنوں نے اپنی جانوں کو فروخت اور قربان کردیا ہے اور اللہ نے ان کے مطلوب و مقصود کے حصول کے لیے اپنی واجب شفقت و رحمت کی خبر دی ہے۔ پس اس کے بعد، ان پر اللہ کریم جو نوازشات فرمائے گا اور جو کامیابی و کامرانی ان کو حاصل ہوگی، اس کی بابت مت پوچھ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
[هؤلاء هم الموفقون الذين باعوا أنفسهم، وأرخصوها، وبذلوها طلباً لمرضاة الله، ورجاءً لثوابه، فهم بذلوا الثمن للملي الوفي، الرءوف بالعباد، الذي من رأفته ورحمته أن وفقهم لذلك، وقد وَعَدَ الوفاء بذلك، فقال: {إن الله اشترى من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بأنَّ لهم الجنة ... } إلى آخر الآية. وفي هذه الآية أخبر أنهم اشتروا أنفسهم وبذلوها، وأخبر برأفته الموجبة لتحصيل ما طلبوا، وبذل ما به رغبوا، فلا تسأل بعد هذا عمّا يحصل لهم من الكريم، وما ينالهم من الفوز والتكريم].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔