تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 206

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾
اور جب اس سے کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔ En
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
En
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اور تعصب اسے گناه پر آماده کر دیتا ہے، ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہے اور یقیناً وه بد ترین جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَخَذَتْهُ الْ٘عِزَّةُ بِالْاِثْمِ کھینچ لاتا ہے، غرور اس کو گناہ پر چنانچہ اس کے اندر گناہ اور معاصی کے اعمال اور نصیحت کرنے والوں کے خلاف متکبرانہ رویہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ﴿ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ پس اس کے لیے جہنم کافی ہے جو نافرمان متکبرین کا ٹھکانا ہے۔ ﴿ وَلَ٘بِئْسَ الْمِهَادُ اور بہت برا ٹھکانا ہے۔ یعنی بہت ہی برا ٹھکانا اور مسکن ہے جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی مایوسی اور دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے، ان کے عذاب میں کبھی تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ ثواب کی کوئی امید نہیں رکھیں گے یہ ان کے اعمال بد اور ان کے جرم کی سزا ہے۔ ہم ان کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کے طلب گار ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأخذته العزة بالإثم}؛ فيجمع بين العمل بالمعاصي والتكبر على الناصحين {فحسبه جهنم}؛ التي هي دار العاصين والمتكبرين {وبئس المهاد}؛ أي المستقر والمسكن، عذاب دائم، وهمٌ لا ينقطع، ويأس مستمر، لا يخفف عنهم العذاب ولا يرجون الثواب، جزاءً لجنايتهم ومقابلة لأعمالهم، فعياذاً بالله من أحوالهم.