یا جیسے آسمان سے اترنے والی بارش، جس میں کئی اندھیرے ہیں اور گرج اور چمک ہے، وہ کڑکنے والی بجلیوں کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں اور اللہ کافروں کو گھیرنے والا ہے۔
En
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَوْکَصَیِّبٍمِّنَالسَّمَآءِ﴾ یا (ان کی مثال) اس شخص کی مانند ہے جس پر موسلا دھار بارش ہو رہی ہو۔ (صَیِّبٍ) سے مراد وہ بارش ہے جو موسلا دھار برستی ہے۔
﴿فِیْهِظُلُمَاتٌ﴾”اس میں اندھیرے ہیں۔“ اس سے مراد ہے، رات کا اندھیرا، بادل کا اندھیرا اور بارش کی تاریکیاں۔ ﴿وَرَعْدٌ﴾”اور کڑک کی آواز ہے۔“ جو کہ بادل سے سنائی دیتی ہے۔ ﴿وَبَرْقٌ﴾ اوربجلی کی وہ چمک ہے جو بادلوں میں دکھائی دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {أو كصيب من السماء}؛ أي: كصاحب صيب وهو: المطر الذي يصوب؛ أي: ينزل بكثرة {فيه ظلمات}؛ ظلمة الليل، وظلمة السحاب، وظلمة المطر، وفيه {رعد}؛ وهو: الصوت الذي يسمع من السحاب وفيه {برق}؛ وهو الضوء اللامع المشاهد من السحاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔