تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 18

صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس وہ نہیں لوٹتے۔ En
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے
En
بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وه نہیں لوٹتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿صُمٌّ وہ بھلائی کی بات سننے سے بہرے ہیں ﴿بُكْمٌ وہ بھلائی کی بات کہنے سے گونگے ہیں ﴿عُمْیٌ حق کے دیکھنے سے اندھے ہیں ﴿فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ چونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر ترک کیا ہے اس لیے اب یہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ ان کی حالت اس شخص کی حالت کے برعکس ہے جو محض جہالت اور گمراہی کی بنا پر حق کو ترک کرتا ہے کیونکہ وہ اسے سمجھتا نہیں۔ ان کی نسبت اس شخص کے بارے میں زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حق کی طرف رجوع کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{صمٌّ}؛ أي: عن سماع الخير {بكمٌ}، أي: عن النطق به {عميٌ} عن رؤية الحق {فهم لا يرجعون}؛ لأنهم تركوا الحق بعد أن عرفوه؛ فلا يرجعون إليه، بخلاف من ترك الحق عن جهل وضلال؛ فإنه لا يعقل، وهو أقرب رجوعاً منهم.