یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
En
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکرر ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ مخلوق سے اپنا تعلق منقطع کر لیں۔ بھروسہ صرف اسی عمل اور اسی صفت پر کرنا چاہیے جس سے انسان خود متصف ہو، نہ کہ اپنے اسلاف اور اپنے آباء و اجداد کے اعمال پر، کیونکہ اپنے اعمال ہی حقیقی فائدہ دیتے ہیں نہ کہ بڑے انسانوں کی طرف انتساب محض۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
تقدم تفسيرها وكررها لقطع التعلق بالمخلوقين، وإن المعول عليه ما اتصف به الإنسان لا عمل أسلافه وآبائه، فالنفع الحقيقي بالأعمال لا بالانتساب المجرد للرجال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔