یا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی تھے یا عیسائی؟ کہہ دے کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ؟ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے وہ شہادت چھپالی جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے تھی اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
En
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کہ کیا تم زیاده جانتے ہو، یا اللہ تعالیٰ؟ اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیاده ﻇالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کی طرف سے ایک اور دعویٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے بارے میں ایک اور مباحثہ ہے۔ انھوں نے گمان کیا کہ وہ مسلمانوں کی نسبت مذکورہ رسولوں کے زیادہ قریب ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ءَاَنْتُمْاَعْلَمُاَمِاللّٰهُ﴾”کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَاكَانَاِبْرٰهِیْمُیَهُوْدِیًّاوَّلَانَصْرَانِیًّاوَّلٰكِنْكَانَحَنِیْفًامُّسْلِمًا١ؕوَمَاكَانَمِنَالْ٘مُشْ٘رِكِیْنَ﴾ (آل عمران:3؍67) ”ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے بھی نہ تھے۔“ اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام یہودی یا نصرانی تھے۔ اس بارے میں یا تو وہ سچے اور علم سے بہرہ ور ہیں یا اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا اور سچا ہے ان دو باتوں میں سے لامحالہ صرف ایک ہی بات صحیح ہے۔
جواب کی صورت مبہم ہے مگر جواب درحقیقت بہت واضح ہے حتیٰ کہ جواب میں یہ بھی کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی ”بلکہ اللہ تعالیٰ زیادہ علم رکھنے والا اور زیادہ سچا ہے“ کیونکہ یہ جواب ہر شخص پر واضح ہے۔
مثلاً جب یہ کہا جائے کہ رات زیادہ روشن ہے یا دن؟ آگ زیادہ گرم ہے یا پانی؟ اور شرک زیادہ اچھی چیز ہے یا توحید؟ اور اس قسم کا کوئی اور سوال۔ (اس کا جواب اتنا واضح ہے کہ جواب دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔) ایک ادنیٰ سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے حتیٰ کہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء یہودی تھے نہ نصرانی، انھوں نے اس علم اور اس گواہی کو چھپانے کے گناہ کا ارتکاب کیا، لہٰذا ان کا ظلم سب سے بڑا ظلم ہے۔
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْاَظْلَمُمِمَّنْكَتَمَشَهَادَةًعِنْدَهٗمِنَاللّٰهِ﴾”اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس شہادت کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے“ پس یہ شہادت جو ان کے پاس تھی، اللہ کی طرف سے ان کے سپرد کی گئی تھی نہ کہ مخلوق کی طرف سے، اس لیے اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری تھا، لیکن انھوں نے اسے چھپایا اور اس کے برعکس باتوں کو ظاہر کیا۔
چنانچہ انھوں نے حق کے چھپانے، اسے بیان نہ کرنے اور اظہار باطل اور اس کی طرف دعوت دینے کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم نہیں؟ کیوں نہیں اللہ کی قسم! یہ سب سے بڑا ظلم ہے اس پر انھیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَااللّٰهُبِغَافِلٍعَمَّاتَعْمَلُوْنَ﴾”وہ تمھارے اعمال سے غافل نہیں“ بلکہ اس نے تمھارے اعمال کو شمار کر کے محفوظ کر لیا ہے اور ان کی جزا بھی محفوظ کی ہوئی ہے۔ پس ان کی جزا بہت بری جزا ہے اور بری ہے جہنم کی آگ، جو ظالموں کا ٹھکانا ہے۔
قرآن کریم کاطریقہ یہ ہے کہ وہ ان آیات کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کا ذکر کرتا ہے جن میں ان اعمال کا ذکر کیا گیا ہوتا ہے جن پر سزا و جزا مرتب ہوتی ہے پس ان آیات کریمہ کے عقب میں اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کا ذکر کرنا وعد ہ و وعیداور ترغیب و ترہیب کا فائدہ دیتا ہے۔ نیز احکام کے عقب میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر کرنا اس امر کا فائدہ دیتا ہے کہ امر دینی و جزائی اسمائے حسنیٰ کے آثار اور اس کے موجبات میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ اس امر دینی و جزائی کا تقاضا کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذه دعوى أخرى منهم ومحاجة في رسل الله زعموا أنهم أولى بهؤلاء الرسل المذكورين من المسلمين؛ فردَّ الله عليهم بقوله: {أأنتم أعلم أم الله}؛ فالله يقول: {ما كان إبراهيم يهودياً ولا نصرانياً ولكن كان حنيفاً مسلماً وما كان من المشركين}؛ وهم يقولون بل كان يهودياً أو نصرانياً، فإما أن يكونوا هم الصادقين العالمين أو يكون الله تعالى هو الصادق العالم بذلك، فأحد الأمرين متعين لا محالة، وصورة الجواب مبهم وهو في غاية الوضوح والبيان، حتى أنه من وضوحه لم يحتج أن يقول بل الله أعلم وهو أصدق، ونحو ذلك لانجلائه لكل أحد، كما إذا قيل الليل أنور أم النهار؟ والنار أحر أم الماء؟ والشرك أحسن أم التوحيد؟ ونحو ذلك، وهذا يعرفه كل من له أدنى عقل حتى أنهم بأنفسهم يعرفون ذلك ويعرفون أن إبراهيم وغيره من الأنبياء لم يكونوا هوداً ولا نصارى، فكتموا هذا العلم وهذه الشهادة، فلهذا كان ظلمهم أعظم الظلم، ولهذا قال تعالى: {ومن أظلم ممن كتم شهادة عنده من الله}؛ فهي شهادة عندهم مودعة من الله لا من الخلق فيقتضي الاهتمام بإقامتها، فكتموها وأظهروا ضدها، جمعوا بين كتم الحق وعدم النطق به وإظهار الباطل والدعوة إليه، أليس هذا أعظم الظلم؟ بلى والله وسيعاقبهم عليه أشد العقوبة، فلهذا قال: {وما الله بغافل عما تعملون}؛ بل قد أحصى أعمالهم وعدها وادَّخر لهم جزاءها، فبئس الجزاءُ جزاؤهم، وبئست النار مثوى للظالمين.
وهذه طريقة القرآن في ذكر العلم والقدرة عقب الآيات المتضمنة للأعمال التي يجازى عليها، فيفيد ذلك الوعد والوعيد والترغيب والترهيب، ويفيد أيضاً ذكر الأسماء الحسنى بعد الأحكام أن الأمر الديني والجزائي أثرٌ من آثارها وموجب من موجباتها وهي مقتضية له. ثم قال تعالى:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔