تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 137

فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا ہُمۡ فِیۡ شِقَاقٍ ۚ فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳۷﴾ؕ
پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
En
اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اے اہل ایمان اگر اہل کتاب اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لائے ہو، جن میں سب سے پہلے اور سب سے اولیٰ ہستی جس پر ایمان لایا جائے، حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن ہے۔ اور انھوں نے اللہ وحدہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ ﴿فَقَدِ اهْتَدَوْا تو ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی مل گئی جو نعمتوں والی جنت تک پہنچانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اس ایمان کے بغیر ہدایت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو وہ دعویٰ کرتے ہیں ﴿كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰؔى تَهْتَدُوْا یعنی یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو تم راہ راست پا لو گے پس وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہدایت تو صرف وہی ہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔
اور ’اَلْھُدٰیہدایت نام ہے حق کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کا اور اس کی ضد علم سے محرومی اور علم کے بعد عملی گمراہی ہے اور یہی وہ شقاق (دشمنی اور مخالفت) ہے جس پر وہ قائم تھے، کیونکہ وہ پیٹھ پھیر کر روگردانی کر رہے تھے۔ پس مبتلائے شقاق وہ شخص ہے جو ایک طرف ہوتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول دوسری طرف۔ اس شقاق (مخالفت) سے دشمنی اور انتہا درجے کی عداوت لازم آتی ہے جس کے لوازمات میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ عداوت میں مبتلا لوگ رسول کو اذیت دینے میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ دشمنوں کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اختلاف زبان اور ان کی متنوع حاجات و ضروریات کے باوجود سب کی آوازیں سنتا ہے۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو وہ سب جانتا ہے۔ غائب اور شاہد، ظاہر اور باطن سب اس کے دائرۂ علم میں ہیں۔ پس جب بات اس طرح ہے تو ان کے شر کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تیرے لیے کافی ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا، آپ کو ان پر غلبہ اور تسلط عطا کیا یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگوں کو قتل کیا بعض کو قیدی اور غلام بنا لیا گیا اور بعض کو جلاوطن کر کے انھیں پوری طرح تتر بتر کر دیا گیا۔
اس آیت کریمہ میں قرآن کے معجزات میں سے ایک معجزے کی طرف اشارہ ہے۔ اور وہ ہے کسی چیز کے واقع ہونے سے قبل اس کے وقوع کے بارے میں خبر دینا پھر اس کا عین دی ہوئی خبر کے مطابق واقع ہونا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فإن آمن أهل الكتاب بمثل ما آمنتم به يا معشر المؤمنين من جميع الرسل، وجميع الكتب، الذين أول من دخل فيهم وأولى خاتمهم وأفضلهم محمد - صلى الله عليه وسلم -، والقرآن، وأسلموا لله وحده ولم يفرقوا بين أحد من الرسل ، {فقد اهتدوا}؛ للصراط المستقيم الموصل لجنات النعيم؛ أي فلا سبيل لهم إلى الهداية إلا بهذا الإيمان، لا كما زعموا بقولهم كونوا هوداً أو نصارى تهتدوا فزعموا أن الهداية خاصة بما كانوا عليه.

والهدى: هو العلم بالحق والعمل به، وضده الضلال عن العلم، والضلال عن العمل بعد العلم وهو الشقاق الذي كانوا عليه لما تولوا وأعرضوا، فالمشاق هو الذي يكون في شقٍّ والله ورسوله في شقٍّ، ويلزم من المشاقة المحادَّة والعداوة البليغة التي من لوازمها بذل ما يقدرون عليه من أذية الرسول، فلهذا وعد الله رسوله أن يكفيه إياهم لأنه {السميع} لجميع الأصوات باختلاف اللغات على تفنن الحاجات. {العليم} بما بين أيديهم وما خلفهم بالغيب والشهادة بالظواهر والبواطن، فإذا كان كذلك كفاك الله شرهم، وقد أنجز الله لرسوله وعده، وسلطه عليهم حتى قتل بعضهم، وسبى بعضهم، وأجلى بعضهم، وشردهم كل مشرد، ففيه معجزة من معجزات القرآن وهو الإخبار بالشيء قبل وقوعه فوقع طبق ما أخبر.