ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 137

فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا ہُمۡ فِیۡ شِقَاقٍ ۚ فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳۷﴾ؕ
پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
En
اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 137) ➊ {شِقَاقٍ:} یہ {شِقٌّ} میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، یعنی بعض کا ایک شق میں اور بعض کا دوسری شق میں ہو کر مقابلے میں آ جانا۔
➋ یعنی یہ لوگ ان چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، تو واقعی وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ منہ موڑیں تو محض مخالفت اور ضد کی وجہ سے ایسا کریں گے۔
➌ اس وعدے کے مطابق واقعی اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کافی ہو گیا، بنو نضیر اور بنو قینقاع مدینہ سے نکالے گئے، بنو قریظہ قتل ہوئے اور بالآخر تمام یہود و نصاریٰ پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کر دیے گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

137۔ 1 صحابہ کرام بھی اسی مزکورہ طریقے پر ایمان لائے تھے، اس لئے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح سے صحابہ کرام! تم ایمان لائے ہو تو پھر یقینا وہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ اگر وہ ضد اور اختلاف میں منہ موڑیں گے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی سازشیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرنے والا ہے۔ چناچہ چند سالوں میں ہی یہ وعدہ پورا ہوا اور بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا گیا اور بنو قریظہ قتل کئے گئے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت ایک مصحف عثمان ان کی اپنی گود میں تھا اور اس آیت کے جملہ (فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ) 2:137 پر ان کے خون کے چھینٹے گرے بلکہ دھار بھی۔ کہا جاتا ہے یہ مصحف آج بھی ترکی میں موجود ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ سو اگر یہ اہل کتاب ایسے ہی ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پا لیں گے اور اگر اس سے منہ پھیریں تو وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہیں۔ لہذا اللہ ان کے مقابلے میں آپ کو کافی [169] ہے اور وہ ہر ایک کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے
[169] یعنی ان اہل کتاب کا حق سے اعراض اور ہٹ دھرمی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اللہ انہیں سزا دینے کو کافی ہے۔ یعنی یہود بنو نضیر جلا وطن ہوئے اور جزیہ دینا قبول کیا اور بنو قریظہ قیدی اور قتل ہوئے اور نجران کے عیسائیوں نے بھی جزیہ دینا قبول کیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شرط نجات ٭٭
یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [2۔ البقرہ: 137]‏‏‏‏ کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [رضی اللہ عنہما]‏‏‏‏۔[تفسیر ابن ابی حاتم:402/1]‏‏‏‏ رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔[تفسیر ابن ابی حاتم:402/1]‏‏‏‏ جسے «فطرۃ اللہ» میں۔[30-الروم:3]‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «‏‏‏‏وَعْدَ اللَّـهِ ۖ» [30-الروم:6]‏‏‏‏ ایک مرفوع حدیث ہےبنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔[تفسیر ابن ابی حاتم:403/1]‏‏‏‏یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اے اہل ایمان اگر اہل کتاب اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لائے ہو، جن میں سب سے پہلے اور سب سے اولیٰ ہستی جس پر ایمان لایا جائے، حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن ہے۔ اور انھوں نے اللہ وحدہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ ﴿فَقَدِ اهْتَدَوْا تو ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی مل گئی جو نعمتوں والی جنت تک پہنچانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اس ایمان کے بغیر ہدایت تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو وہ دعویٰ کرتے ہیں ﴿كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰؔى تَهْتَدُوْا یعنی یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو تم راہ راست پا لو گے پس وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہدایت تو صرف وہی ہے جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔
اور ’اَلْھُدٰیہدایت نام ہے حق کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کا اور اس کی ضد علم سے محرومی اور علم کے بعد عملی گمراہی ہے اور یہی وہ شقاق (دشمنی اور مخالفت) ہے جس پر وہ قائم تھے، کیونکہ وہ پیٹھ پھیر کر روگردانی کر رہے تھے۔ پس مبتلائے شقاق وہ شخص ہے جو ایک طرف ہوتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول دوسری طرف۔ اس شقاق (مخالفت) سے دشمنی اور انتہا درجے کی عداوت لازم آتی ہے جس کے لوازمات میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ عداوت میں مبتلا لوگ رسول کو اذیت دینے میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ دشمنوں کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اختلاف زبان اور ان کی متنوع حاجات و ضروریات کے باوجود سب کی آوازیں سنتا ہے۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو وہ سب جانتا ہے۔ غائب اور شاہد، ظاہر اور باطن سب اس کے دائرۂ علم میں ہیں۔ پس جب بات اس طرح ہے تو ان کے شر کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تیرے لیے کافی ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا، آپ کو ان پر غلبہ اور تسلط عطا کیا یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگوں کو قتل کیا بعض کو قیدی اور غلام بنا لیا گیا اور بعض کو جلاوطن کر کے انھیں پوری طرح تتر بتر کر دیا گیا۔
اس آیت کریمہ میں قرآن کے معجزات میں سے ایک معجزے کی طرف اشارہ ہے۔ اور وہ ہے کسی چیز کے واقع ہونے سے قبل اس کے وقوع کے بارے میں خبر دینا پھر اس کا عین دی ہوئی خبر کے مطابق واقع ہونا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فإن آمن أهل الكتاب بمثل ما آمنتم به يا معشر المؤمنين من جميع الرسل، وجميع الكتب، الذين أول من دخل فيهم وأولى خاتمهم وأفضلهم محمد - صلى الله عليه وسلم -، والقرآن، وأسلموا لله وحده ولم يفرقوا بين أحد من الرسل ، {فقد اهتدوا}؛ للصراط المستقيم الموصل لجنات النعيم؛ أي فلا سبيل لهم إلى الهداية إلا بهذا الإيمان، لا كما زعموا بقولهم كونوا هوداً أو نصارى تهتدوا فزعموا أن الهداية خاصة بما كانوا عليه.

والهدى: هو العلم بالحق والعمل به، وضده الضلال عن العلم، والضلال عن العمل بعد العلم وهو الشقاق الذي كانوا عليه لما تولوا وأعرضوا، فالمشاق هو الذي يكون في شقٍّ والله ورسوله في شقٍّ، ويلزم من المشاقة المحادَّة والعداوة البليغة التي من لوازمها بذل ما يقدرون عليه من أذية الرسول، فلهذا وعد الله رسوله أن يكفيه إياهم لأنه {السميع} لجميع الأصوات باختلاف اللغات على تفنن الحاجات. {العليم} بما بين أيديهم وما خلفهم بالغيب والشهادة بالظواهر والبواطن، فإذا كان كذلك كفاك الله شرهم، وقد أنجز الله لرسوله وعده، وسلطه عليهم حتى قتل بعضهم، وسبى بعضهم، وأجلى بعضهم، وشردهم كل مشرد، ففيه معجزة من معجزات القرآن وهو الإخبار بالشيء قبل وقوعه فوقع طبق ما أخبر.