اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا تو اس نے انھیں پورا کر دیا۔ فرمایا بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ کہا اور میری اولاد میں سے بھی؟ فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
En
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا
جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اوﻻد کو، فرمایا میرا وعده ﻇالموں سے نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا یعنی چند اوامر و نواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلا و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہو جائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں۔ اس کی قدر و قیمت زیادہ ہو، اس کے اعمال صاف ستھرے ہوں اور وہ اس آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے۔
اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام جلیل ترین مقام پر فائز ہیں۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا وہ بدرجہ اتم اس آزمائش میں پورے اترے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کی قدر کی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے (اپنے نیک بندوں کی مساعی کا) قدردان ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنِّیْجَاعِلُكَلِلنَّاسِاِمَامًا﴾”میں تجھ کو لوگوں کا امام بناؤں گا“ یعنی وہ زندگی کے لائحہ عمل میں تیری پیروی کریں گے اور ابدی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تیرے پیچھے چلیں گے۔ تجھے ہمیشہ مدح و ثنا حاصل رہے گی۔ اور بے پایاں اجر عطا ہو گا اور ہر شخص تیری عظمت کا قائل ہو گا۔ اللہ کی قسم! یہ افضل ترین درجہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کرتے ہیں اور ایک ایسا بلند مقام ہے کہ اصحاب اعمال اس تک پہنچنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ اور وہ کامل ترین حالت ہے جو صرف اولوالعزم انبیاء و مرسلین، ان کے پیروکار صدیقین اور اللہ تعالیٰ اور اس کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔
جب ابراہیم علیہ السلام اس مقام بلند کو پاکر خوش ہوئے تو انھوں نے اپنی اولاد کے لیے بھی اس مقام کی درخواست کی تاکہ ان کے اور ان کی اولاد کے درجات بلند ہوں اور یہ دعا بھی ان کی امامت، اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی اور چاہت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد میں اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والوں کی کثرت ہو۔ پس کیا خوب عظمت ہے ان اعلیٰ مقاصد اور مقامات بلند کی۔
اللہ رحیم اور لطف و کرم کے مالک نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اس رکاوٹ سے ان کو باخبرکر دیا جو اس مقام کے حصول کے راستے میں حائل ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ لَایَنَالُعَهْدِیالظّٰلِمِیْنَ ﴾”میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا“ یعنی اہل ظلم دین میں امامت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس کو نقصان پہنچایا اور اس کی بے قدری کی، کیونکہ ظلم اس مقام کے منافی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ صبر و یقین ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس رتبے کا مالک ایمان اور اعمال صالحہ، اخلاق جمیلہ، خصائل حمیدہ، محبت تامہ اور خشیت و انابت میں عظمت کا حامل ہو۔ پس ظلم کا اس مقام سے کیا تعلق؟
آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو ظالم نہیں وہ اس امامت کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچانے والے اسباب استعمال کر کے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عبده وخليله إبراهيم عليه السلام المتفق على إمامته وجلالته الذي كل من طوائف أهل الكتاب تدعيه، بل وكذلك المشركون أن الله ابتلاه وامتحنه بكلمات أي بأوامر ونواهٍ كما هي عادة الله في ابتلائه لعباده ليتبين الكاذب الذي لا يثبت عند الابتلاء والامتحان من الصادق، الذي ترتفع درجته، ويزيد قدره، ويزكو عمله ويخلص ذهبه، وكان من أجلِّهم في هذا المقام الخليل عليه السلام، فأتم ما ابتلاه الله به وأكمله ووفاه، فشكر الله له ذلك، ولم يزل الله شكوراً فقال: {إني جاعلك للناس إماماً}؛ أي: يقتدون بك في الهدي ويمشون خلفك إلى سعادتهم الأبدية، ويحصل لك الثناء الدائم والأجر الجزيل والتعظيم من كل أحد.
وهذه ـ لعمر الله ـ أفضل درجة تنافس فيها المتنافسون، وأعلى مقام شمر إليه العاملون، وأكمل حالة حصلها أولو العزم من المرسلين وأتباعهم من كل صِدِّيق متبع لهم داعٍ إلى الله وإلى سبيله، فلما اغتبط إبراهيم بهذا المقام، وأدرك هذا، طلب ذلك لذريته لتعلو درجته ودرجة ذريته، وهذا أيضاً من إمامته ونصحه لعباد الله ومحبته أن يكثر فيهم المرشدون، فلله عظمة هذه الهمم العالية والمقامات السامية.
فأجابه الرحيم اللطيف وأخبر بالمانع من نيل هذا المقام فقال: {لا ينال عهدي الظالمين}؛ أي: لا ينال الإمامة في الدين من ظلم نفسه وضرها وحطَّ قدرها لمنافاة الظلم لهذا المقام، فإنه مقام آلته الصبر واليقين، ونتيجته أن يكون صاحبه على جانب عظيم من الإيمان والأعمال الصالحة والأخلاق الجميلة والشمائل السديدة والمحبة التامة والخشية والإنابة، فأين الظلم وهذا المقام؟ ودلَّ مفهوم الآية أن غير الظالم سينال الإمامة، ولكن مع إتيانه بأسبابها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔