تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش میں یہ سب چیزیں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بھی حکم دیا انھوں نے وہ پورا کر دکھایا، بڑھاپے میں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو پورا کر دیا، اسّی (۸۰) سال کی عمر میں اپنا ختنہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ بھی کر دیا۔ [بخاری، الاستئذان، باب الختان بعد الکبر …: ۶۲۹۷]
➋ { قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ......: } جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو تمام لوگوں کا امام بنا دیا تو انھوں نے اپنی بعض اولاد کے حق میں امامت کی دعا کی، سب کے حق میں نہیں کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، تو یہ دعا کیوں کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، مگر اس کے ساتھ ہی انھیں بتا دیا کہ تمھاری اولاد میں سے ظالم لوگ اس نعمت سے سرفراز نہیں ہوں گے۔ اس سے بنی اسرائیل کے گمراہ لوگوں اور بنی اسماعیل کے مشرکین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ ان کے عقائد و اعمال خراب ہو چکے ہیں، محض ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونا کافی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ آپ ایک بت گر اور بت فروش کے گھر پیدا ہوئے۔ باپ چاہتا تھا کہ بیٹا اس کام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن آپؑ نے الٹا احسن انداز میں سمجھانا شروع کر دیا۔ جب باپ آپؑ کی طرف سے مایوس ہو گیا تو گھر سے نکال دینے کی دھمکی دے دی۔ آپؑ نے حق کی خاطر جلا وطنی کی صعوبتیں قبول کیں۔
2۔ قومی میلہ کے موقع پر بتوں کو پاش پاش کیا جس کے نتیجہ میں آپؑ کو آگ میں جلا دینے کا فیصلہ ہوا۔ آپؑ نے بخوشی اس میں کودنا منظور کیا۔
3۔ آپؑ نے اپنی بیوی ہاجرہ علیہا السلام اور دودھ پیتے بچے کو اللہ کے حکم کے مطابق ایک بے آب و گیاہ میدان میں جا چھوڑا۔ جہاں کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہ تھا اور نہ ہی دور دور تک کسی آبادی کے آثار نظر آتے تھے۔
4۔ بوڑھی عمر میں ملے ہوئے بچے اسماعیلؑ جب ذرا جوان ہوئے تو ان کو قربان کر دینے کا حکم ہوا تو آپ بے دریغ اور بلا تامل اس پر آمادہ ہو گئے۔ غرض آپ کی قربانیوں اور آزمائشوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود یہ سرٹیفکیٹ عطا کر دیا کہ ہم نے ابراہیمؑ کی کئی باتوں سے آزمائش کی تو وہ ہر امتحان میں پورے اترے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان امتحانوں کے نتیجہ میں آپ کو دنیا جہان کا امام بنا دیا، اور آئندہ قیامت تک کے لیے سلسلہ نبوت کو آپؑ ہی کی اولاد سے منسلک کر دیا اور دنیا کے اکثر و بیشتر مذاہب اپنے مذہب کی آپؑ کی طرف نسبت کرنا باعث عزت و افتخار سمجھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابتلاء کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ کلمات سے مراد شریعت حکم اور ممانعت وغیرہ ہے کلمات سے مراد کلمات تقدیریہ بھی ہوتی ہے جیسے مریم علیہما السلام کی بابت ارشاد ہے صدقت بکلمات ربھا یعنی انہوں نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی۔ کلمات سے مراد کلمات شرعیہ بھی ہوتی ہے۔ آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6۔ الانعام: 115] یعنی اللہ تعالیٰ کے شرعی کلمات سے سچائی اور عدل کے ساتھ پورے ہوئے یہ کلمات یا تو سچی خبریں ہیں یا طلب عدل ہے غرض ان کلمات کو پورا کرنے کی جزا میں انہیں امامت کا درجہ ملا، ان کلمات کی نسبت بہت سے اقوال ہیں مثلاً احکام حج، مونچھوں کو کم کرنا، کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مسواک کرنا، سر کے بال منڈوانا یا رکھوانا تو مانگ نکالنا، ناخن کاٹنا، زیر ناف کے بال کاٹنا، ختنہ کرانا، بغل کے بال کاٹنا، پیشاب پاخانہ کے بعد استنجاء کرنا، جمعہ کے دن غسل کرنا، طواف کرنا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، رمی جمار کرنا، طواف افاضہ کرنا۔
دس کا بیان «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» * «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ» * «إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ» * «فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» * «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ» [23-سورةالمؤمنون:1-10] «يُحَافِظُونَ» تک ہے۔
اور سورۃ المعارج میں ہے یعنی نماز کو خشوع خضوع سے ادا کرنا لغو اور فضول باتوں اور کاموں سے منہ پھیر لینا، زکوٰۃ دیتے رہا کرنا، شرمگاہ کی حفاظت کرنا، امانت داری کرنا، وعدہ وفائی کرنا، نماز پر ہمیشگی اور حفاظت کرنا قیامت کو سچا جاننا، عذابوں سے ڈرتے رہنا سچی شہادت پر قائم رہنا۔
اور دس کا بیان سورۃ الاحزاب میں آیت «إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلْخَٰشِعِينَ وَٱلْخَٰشِعَٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلْحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا» [33۔الاحزاب:35] تک ہے یعنی اسلام لانا، ایمان رکھنا، قرآن پڑھنا، سچ بولنا، صبر کرنا، عاجزی کرنا، خیرات دینا، روزہ رکھنا، بدکاری سے بچنا، اللہ تعالیٰ کا ہر وقت بکثرت ذکر کرنا، ان تینوں احکام کا جو عامل ہو وہ پورے اسلام کا پابند ہے اور اللہ کے عذابوں سے بری ہے۔
یہاں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظلم کرنے والے بھی ہوں گے، ظالم سے مرد بعض نے مشرک بھی لیا ہے عہد سے مراد امر ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم کو کسی چیز کا والی اور بڑا نہ بنانا چاہیئے گو وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہو، خلیل اللہ کی دعا ان کی نیک اولاد کے حق میں قبول ہوئی ہے یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ظالم سے کوئی عہد نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کا عہد توڑ دیا جائے پورا نہ کیا جائے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ دینے کا عہد نہیں کیا دنیا میں تو کھا پی رہا ہے اور عیش و عشرت کر رہا ہے۔ بس یہی ہے عہد سے مراد دین بھی ہے یعنی تیری کل اولاد دیندار نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت «ووَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ» [37۔ الصافات: 113] یعنی ان کی اولاد میں بھلے بھی ہیں اور برے بھی اطاعت کے معنی بھی کئے گئے ہیں یعنی اطاعت صرف معروف اور بھلائی میں ہی ہو گی اور عہد کے معنی نبوت کے بھی آئے ہیں ابن خویز منذاذ مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ظالم شخص نہ تو خلیفہ بن سکتا ہے نہ حاکم نہ مفتی نہ گواہ نہ راوی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عبده وخليله إبراهيم عليه السلام المتفق على إمامته وجلالته الذي كل من طوائف أهل الكتاب تدعيه، بل وكذلك المشركون أن الله ابتلاه وامتحنه بكلمات أي بأوامر ونواهٍ كما هي عادة الله في ابتلائه لعباده ليتبين الكاذب الذي لا يثبت عند الابتلاء والامتحان من الصادق، الذي ترتفع درجته، ويزيد قدره، ويزكو عمله ويخلص ذهبه، وكان من أجلِّهم في هذا المقام الخليل عليه السلام، فأتم ما ابتلاه الله به وأكمله ووفاه، فشكر الله له ذلك، ولم يزل الله شكوراً فقال: {إني جاعلك للناس إماماً}؛ أي: يقتدون بك في الهدي ويمشون خلفك إلى سعادتهم الأبدية، ويحصل لك الثناء الدائم والأجر الجزيل والتعظيم من كل أحد.
وهذه ـ لعمر الله ـ أفضل درجة تنافس فيها المتنافسون، وأعلى مقام شمر إليه العاملون، وأكمل حالة حصلها أولو العزم من المرسلين وأتباعهم من كل صِدِّيق متبع لهم داعٍ إلى الله وإلى سبيله، فلما اغتبط إبراهيم بهذا المقام، وأدرك هذا، طلب ذلك لذريته لتعلو درجته ودرجة ذريته، وهذا أيضاً من إمامته ونصحه لعباد الله ومحبته أن يكثر فيهم المرشدون، فلله عظمة هذه الهمم العالية والمقامات السامية.
فأجابه الرحيم اللطيف وأخبر بالمانع من نيل هذا المقام فقال: {لا ينال عهدي الظالمين}؛ أي: لا ينال الإمامة في الدين من ظلم نفسه وضرها وحطَّ قدرها لمنافاة الظلم لهذا المقام، فإنه مقام آلته الصبر واليقين، ونتيجته أن يكون صاحبه على جانب عظيم من الإيمان والأعمال الصالحة والأخلاق الجميلة والشمائل السديدة والمحبة التامة والخشية والإنابة، فأين الظلم وهذا المقام؟ ودلَّ مفهوم الآية أن غير الظالم سينال الإمامة، ولكن مع إتيانه بأسبابها.