تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 112

بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪
کیوں نہیں، جس نے اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دیا اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ En
ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
En
سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی روشن دلیل بیان فرمائی ہے جو ہر ایک کے لیے عام ہے فرمایا: ﴿ بَلٰى یعنی تمھاری آرزوئیں اور تمھارے دعوے صحیح نہیں بلکہ ﴿ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ جس نے اپنے قلب کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے اعمال کو اس کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَهُوَ مُحْسِنٌ اور وہ اپنے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی عبادت احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یعنی وہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کرتا ہے صرف یہی لوگ جنت میں جائیں گے۔ ﴿ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ بے شک اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے یہ اجر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر مشتمل جنت ہے ﴿ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ اور ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے پس انھیں ان کی مرغوب چیز حاصل ہو گی اور خوف سے نجات مل جائے گی۔
ان آیات کریمہ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جو ان مذکورہ لوگوں کی مانند نہیں ہیں وہ ہلاک ہونے والے جہنمیوں میں شمار ہوں گے پس نجات صرف انھی لوگوں کا نصیب ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیکی کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تعالى البرهان الجلي العام لكل أحد فقال: {بلى}؛ أي: ليس بأمانيكم ودعاويكم ولكن، {من أسلم وجهه لله}؛ أي: أخلص لله أعماله متوجهاً إليه بقلبه، {وهو}؛ مع إخلاصه {محسن}؛ في عبادة ربه بأن عبده بشرعه فأولئك هم أهل الجنة وحدهم، فلهم أجرهم عند ربهم؛ وهو الجنة بما اشتملت عليه من النعيم، {ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون}؛ فحصل لهم المرغوب ونجوا من المرهوب، ويفهم منها أن من ليس كذلك فهو من أهل النار الهالكين، فلا نجاة إلا لأهل الإخلاص للمعبود والمتابعة للرسول.