تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 111

وَ قَالُوۡا لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾
اور انھوں نے کہا جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، کہہ دے لائو اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔ En
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
En
یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا اور عیسائیوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو عیسائی ہوں گے۔ پس انھوں نے حکم لگا دیا کہ صرف وہی اکیلے جنت کے مستحق ہوں گے۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جو دلیل و برہان کے بغیر قابل قبول نہیں۔ پس اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو دلیل مہیا کرو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی قسم کا دعویٰ کرتا ہے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے کی صحت پر دلیل مہیا کرے وگرنہ اس کا دعویٰ اس کی طرف پلٹا دیا جائے اور اگر کوئی دعویٰ کرنے والا اس کے برعکس بغیر دلیل کے دعویٰ کر دے، تو وہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ ان دونوں دعوؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ پس دلیل ہی ایک ایسی چیز ہے جو دعوے کی تصدیق یا اس کی تکذیب کرتی ہے اور جب ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال اليهود: لن يدخل الجنة إلا من كان هوداً، وقالت النصارى: لن يدخل الجنة إلا من كان نصارى، فحكموا لأنفسهم بالجنة وحدهم، وهذا مجرد أماني غير مقبولة إلا بحجة وبرهان فأتوا بها إن كنتم صادقين، وهكذا كل من ادعى دعوى لا بد أن يقيم البرهان على صِحة دعواه، وإلا فلو قلبت عليه دعواه وادعى مدع عكس ما ادعى بلا برهان لكان لا فرق بينهما، فالبرهان هو الذي يصدق الدعاوي أو يكذبها، ولما لم يكن بأيديهم برهان علم كذبهم بتلك الدعوى.