اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم کے ساتھ۔ اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔
En
اور (فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ایک دفعہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیر سے نازل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا ”آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں “ آپ نے یہ بات جبریل علیہ السلام کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کی زبانی فرمایا: ﴿ وَمَانَتَنَزَّلُاِلَّابِاَمْرِرَبِّكَ﴾”ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں “ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَّایَعْصُوْنَاللّٰهَمَاۤاَمَرَهُمْوَیَفْعَلُوْنَمَایُؤْمَرُوْنَ ﴾ (التحریم:66؍6) ”اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔“ ہم تو مامور و محکوم بندے ہیں۔
﴿ لَهٗمَابَیْنَاَیْدِیْنَاوَمَاخَلْفَنَاوَمَابَیْنَذٰلِكَ﴾”اسی کے لیے ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان میں ہے۔“ یعنی وہی ہے جو ہر زمان و مکاں میں، امور ماضی، امور حاضر اور امور مستقبل کا مالک ہے اور جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ اختیار میں ہیں تو ہم محض اس کے بندے اور اس کی دست تدبیر کے تحت ہیں، اس لیے تمام معاملہ ان دو باتوں کے مابین ہے۔
۱۔ آیا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ اسے نافذ فرمائے؟
۲۔ یا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اسے مؤخر کر دے؟
اس لیے فرمایا: ﴿ وَمَاكَانَرَبُّكَنَسِیًّا﴾”اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ یعنی آپ کا رب آپ کو فراموش کر کے مہمل نہیں چھوڑے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَاوَدَّعَكَرَبُّكَوَمَاقَ٘لٰى﴾ (الضحیٰ:93؍3) ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے ناراض ہے۔“ بلکہ وہ اپنے بہترین قوانین جمیلہ اور تدابیر جلیلہ کے مطابق، آپ کے لیے احکام جاری کرتے ہوئے آپ کے تمام امور کو درخور اعتنا رکھتا ہے، یعنی جب ہم وقت معتاد سے تاخیر سے نازل ہوتے ہیں تو یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غمزدہ نہ کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاخیر کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
استبطأ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - جبريل عليه السلام مرَّة في نزوله إليه، فقال له: لو تأتينا أكثرَ ممَّا تأتينا؛ شوقاً إليه وتوحُّشاً لفراقه وليطمئنَّ قلبُه بنزوله؛ فأنزلَ الله تعالى على لسان جبريل: {وما نَتَنَزَّلُ إلاَّ بأمرِ ربِّكَ}؛ أي: ليس لنا من الأمر شيءٌ، إن أمَرَنا؛ ابتدرْنا أمره ولم نعصِ له أمراً؛ كما قال عنهم: {لا يعصونَ الله ما أمَرَهم ويفعلونَ ما يُؤْمَرون}؛ فنحن عبيدٌ مأمورون. {له ما بين أيدينا وما خلفَنا وما بينَ ذلك}؛ أي: له الأمور الماضية والمستقبلة والحاضرة في الزمان والمكان؛ فإذا تبيَّن أنَّ الأمر كلَّه لله، وأننا عبيدٌ مدبَّرون، فيبقى الأمر دائراً بين هل تقتضيه الحكمةُ الإلهيَّةُ فَيُنْفِذهُ أم لا تقتضيه فيؤخِّره؟ ولهذا قال: {وما كان ربُّك نسيًّا}؛ أي: لم يكن الله لينساك ويهمِلَك؛ كما قال تعالى: {ما ودَّعَكَ ربُّك وما قَلى}: بل لم يَزَلْ معتنياً بأمورِك مجرِياً لك على أحسن عوائِدِه الجميلة وتدابيره الجميلة؛ أي: فإذا تأخَّر نزولنا عن الوقت المعتاد؛ فلا يَحْزُنْكَ ذلك ولا يَهُمُّك، واعلم أن الله هو الذي أراد ذلك؛ لما له من الحكمة فيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔