تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِیْنُوْرِثُمِنْعِبَادِنَامَنْكَانَتَقِیًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَسَارِعُوْۤااِلٰىمَغْفِرَةٍمِّنْرَّبِّكُمْوَجَنَّةٍعَرْضُهَاالسَّمٰوٰتُوَالْاَرْضُ١ۙاُعِدَّتْلِلْ٘مُتَّقِیْنَ﴾ (آل عمران:3؍133) ”دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فـ {تلك الجنةُ}: التي وصفناها بما ذكر {التي نورِثُ من عبادنا مَن كان تَقِيًّا}؛ أي: نورثها المتَّقين، ونجعلها منزلهم الدائم، الذي لا يظعَنون عنه ولا يَبْغون عنه حِوَلاً؛ كما قال تعالى: {وسارِعوا إلى مغفرةٍ من ربِّكم وجنَّةٍ عرضُها السمواتُ والأرضُ أعدَّت للمتَّقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔