تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 63

تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ کَانَ تَقِیًّا ﴿۶۳﴾
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔ En
یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا
En
یہ ہے وه جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَسَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ (آل عمران:3؍133) دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فـ {تلك الجنةُ}: التي وصفناها بما ذكر {التي نورِثُ من عبادنا مَن كان تَقِيًّا}؛ أي: نورثها المتَّقين، ونجعلها منزلهم الدائم، الذي لا يظعَنون عنه ولا يَبْغون عنه حِوَلاً؛ كما قال تعالى: {وسارِعوا إلى مغفرةٍ من ربِّكم وجنَّةٍ عرضُها السمواتُ والأرضُ أعدَّت للمتَّقين}.