تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 60

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ﴿ۙ۶۰﴾
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔ En
ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا
En
بجز ان کے جو توبہ کر لیں اور ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنْ تَابَ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا اور نیک عمل کیے۔ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْـًٔؔا یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم استثنى تعالى فقال: {إلاَّ مَن تابَ}: عن الشرك والبدع والمعاصي، فأقلع عنها، وندم عليها، وعزم عزماً جازماً أن لا يعاوِدَها، {وآمَنَ}: بالّله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر، {وعَمِلَ صَالِحاً}: وهو العمل الذي شرعه الله على ألسنةِ رسلِهِ إذا قصد به وجهه، {فأولئك}: الذين جمعوا بين التوبة والإيمان والعمل الصالح، {يدخُلون الجنَّة}: المشتملة على النعيم المقيم والعيش السليم وجوار الربِّ الكريم، {ولا يُظْلَمون شيئاً}: من أعمالهم، بل يجِدونها كاملةً، موفَّرة أجورها، مضاعفاً عددها.