تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 59

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾
پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ En
پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی
En
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ تعالى هؤلاء الأنبياء [وهم] المخلصون ، المتَّبِعون لمراضي ربِّهم، المنيبونَ إليه؛ ذكر مَنْ أتى بعدَهم وبدَّلوا ما أمِروا به، وأنَّه خَلَفَ {من بعدِهم خَلْفٌ}: رجعوا إلى الخَلْفِ والوراء، فـ {أضاعوا الصَّلاة}: التي أمِروا بالمحافظة عليها وإقامتها، فتهاوَنوا بها وضيَّعوها، وإذا ضيَّعوا الصلاة التي هي عمادُ الدين وميزانُ الإيمان والإخلاص لربِّ العالمين، التي هي آكدُ الأعمال وأفضلُ الخصال؛ كانوا لما سواها من دينهم أضيعَ وله أرفضَ. والسبب الداعي لذلك أنَّهم اتَّبعوا شهواتِ أنفسهم وإراداتها، فصارت هممُهم منصرفةً إليها مقدِّمة لها على حقوق الله، فنشأ من ذلك التضييع لحقوقه والإقبال على شهواتِ أنفسهم مهما لاحتْ لهم حصَّلوها، وعلى أيِّ وجهٍ اتَّفقت تناولوها. {فسوف يَلْقَوْنَ غَيًّا}؛ أي: عذاباً مضاعفاً شديداً.