تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 39

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡحَسۡرَۃِ اِذۡ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ۘ وَ ہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ En
اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے
En
تو انہیں اس رنج وافسوس کے دن کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا، اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کسی خوفناک معاملے میں، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا انذار ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ حسرت کا دن ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین وآخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہو گا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ پس اس وقت حسرت اور ندامت سے دل پارہ پارہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت سے محرومی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم کے استحقاق سے بڑھ کر کون سی حسرت ہو سکتی ہے، جہاں دوبارہ عمل کرنے کے لیے واپسی ممکن نہ ہو اور دنیا میں دوبارہ آ کر اپنے احوال کے بدلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔
یہ سب کچھ انھیں پیش آئے گا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس عظیم معاملے کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اس کے بارے میں انھیں کبھی خیال ہی نہیں آیا اور اگر انھیں کبھی خیال آیا بھی ہے تو وہ بھی غفلت میں۔ غفلت نے ان کو گھیر رکھا ہے اور مدہوشی ان پر غالب ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کے رسولوں کی اتباع کرتے ہیں۔ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان ختم ہو جانے والی فانی شہوات حائل ہو گئیں۔
یہ دنیا اور اول سے لے کر آخر تک دنیا کی تمام چیزیں دنیا داروں کوچھوڑ جائیں گی اور وہ دنیا کو چھوڑ کر چل دیں گے اور زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا وارث اللہ تعالیٰ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی طرف لوٹائے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ وہ ان اعمال میں خسارہ اٹھائیں گے یا نفع میں رہیں گے، لہٰذا جو کوئی نیک کام کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی حمدوستائش کرنی چاہیے اور جس کے اعمال اس سے مختلف ہیں اسے اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

الإنذار: هو الإعلام بالمخوِّف على وجه الترهيب والإخبارُ بصفاته، وأحقُّ ما يُنْذَر به ويخوَّف به العباد يومُ الحسرةِ حين يُقْضى الأمر، فيُجْمع الأولون والآخرون في موقفٍ واحدٍ، ويُسألون عن أعمالهم؛ فمن آمن بالله واتَّبع رسله؛ سَعِدَ سعادةً لا يشقى بعدها، ومَنْ لم يؤمنْ بالله ويتَّبِع رسله؛ شقي شقاوةً لا يسعدُ بعدها، وخَسِرَ نفسَه وأهله؛ فحينئذٍ يتحسَّر ويندم ندامةً تنقطع منها القلوبُ، وتتصدَّع منها الأفئدة، وأيُّ حسرة أعظم من فوات رضا الله وجنَّتِهِ واستحقاق سخطِهِ والنار على وجهٍ لا يَتَمَكَّنُ من الرجوع لِيَسْتَأنِفَ العمل، ولا سبيل له إلى تغيير حالِهِ بالعَوْد إلى الدُّنيا؟! فهذا قدَّامهم، والحالُ أنَّهم في الدُّنيا في غفلة عن هذا الأمر العظيم؛ لا يخطر بقلوبهم، ولو خطر؛ فعلى سبيل الغفلةِ، قد عمَّتهم الغفلة، وشملتهم السكرةُ؛ فهم لا يؤمنون بالله، ولا يتَّبِعون رسله، قد ألهتهم دُنياهم، وحالتْ بينهم وبين الإيمان شهواتُهم المنقضية الفانية؛ فالدنيا وما فيها من أولها إلى آخرها ستذهبُ عن أهلها ويذهبون عنها، وسيرثُ الله الأرض ومَنْ عليها، ويرجعهم إليه، فيجازيهم بما عملوا فيها، وما خسروا فيها أو ربحوا؛ فمن عمل خيراً؛ فليحمدِ الله، ومن وَجَدَ غير ذلك؛ فلا يلومنَّ إلاَّ نفسه.