تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ …:} ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُؤْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ هٰذَا الْمَوْتُ وَكُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ وَ كُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ }» وَهٰؤُلَاءِ فِيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا «{ وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ }» ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل: «و أنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: ”اے جنت والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا: ”اے آگ والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے تو اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: ”اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ }» (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موت کے ذبح کے ذکر کے بعد اس آیت کو پڑھنا دلیل ہے کہ {” قُضِيَ الْاَمْرُ “} (فیصلہ کر دیے جانے) سے مراد موت کا ذبح کر دیا جانا ہے۔ مسند احمد (۳؍۹، ح: ۱۱۰۷۲) میں اسی حدیث کے شروع میں ہے کہ جب (تمام) جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔
مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [19-مريم:39]، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4830]
اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“
پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الإنذار: هو الإعلام بالمخوِّف على وجه الترهيب والإخبارُ بصفاته، وأحقُّ ما يُنْذَر به ويخوَّف به العباد يومُ الحسرةِ حين يُقْضى الأمر، فيُجْمع الأولون والآخرون في موقفٍ واحدٍ، ويُسألون عن أعمالهم؛ فمن آمن بالله واتَّبع رسله؛ سَعِدَ سعادةً لا يشقى بعدها، ومَنْ لم يؤمنْ بالله ويتَّبِع رسله؛ شقي شقاوةً لا يسعدُ بعدها، وخَسِرَ نفسَه وأهله؛ فحينئذٍ يتحسَّر ويندم ندامةً تنقطع منها القلوبُ، وتتصدَّع منها الأفئدة، وأيُّ حسرة أعظم من فوات رضا الله وجنَّتِهِ واستحقاق سخطِهِ والنار على وجهٍ لا يَتَمَكَّنُ من الرجوع لِيَسْتَأنِفَ العمل، ولا سبيل له إلى تغيير حالِهِ بالعَوْد إلى الدُّنيا؟! فهذا قدَّامهم، والحالُ أنَّهم في الدُّنيا في غفلة عن هذا الأمر العظيم؛ لا يخطر بقلوبهم، ولو خطر؛ فعلى سبيل الغفلةِ، قد عمَّتهم الغفلة، وشملتهم السكرةُ؛ فهم لا يؤمنون بالله، ولا يتَّبِعون رسله، قد ألهتهم دُنياهم، وحالتْ بينهم وبين الإيمان شهواتُهم المنقضية الفانية؛ فالدنيا وما فيها من أولها إلى آخرها ستذهبُ عن أهلها ويذهبون عنها، وسيرثُ الله الأرض ومَنْ عليها، ويرجعهم إليه، فيجازيهم بما عملوا فيها، وما خسروا فيها أو ربحوا؛ فمن عمل خيراً؛ فليحمدِ الله، ومن وَجَدَ غير ذلك؛ فلا يلومنَّ إلاَّ نفسه.