اس نے کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے کہا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی اور اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں اور یہ شروع سے ایک طے کیا ہوا کام ہے۔
En
(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے
اس نے کہا بات تو یہی ہے۔ لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وه مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت، یہ تو ایک طے شده بات ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَكَذٰلِكِ١ۚقَالَرَبُّكِهُوَعَلَیَّهَیِّنٌ١ۚوَلِنَجْعَلَهٗۤاٰیَةًلِّلنَّاسِ﴾”جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی“ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں۔ ﴿ وَرَحْمَةًمِّؔنَّا﴾”اور اپنی طرف سے رحمت“ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں۔
ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ ﴿وَؔكَانَاَمْرًامَّقْضِیًّا﴾”اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام کے گریبان میں پھونک ماری۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال كذلكِ قال ربُّكِ هو عليَّ هيِّنٌ ولِنَجْعَلَه آيةً للناسِ}: تدلُّ على كمال قدرةِ الله تعالى وعلى أنَّ الأسباب جميعها لا تستقلُّ بالتأثير، وإنَّما تأثيرها بتقدير الله، فيُري عباده خرقَ العوائد في بعض الأسباب العاديَّة؛ لئلاَّ يقفوا مع الأسباب، ويقطعوا النظر عن مقدِّرها ومسبِّبها. {ورحمة منَّا}؛ [أي]: ولنجعله رحمةً منَّا به وبوالدته وبالناس: أما رحمةُ الله به؛ فَلِمَا خَصَّه الله بوحيه، ومنَّ عليه بما منَّ به على أولي العزم. وأما رحمتُهُ بوالدته؛ فَلِمَا حصل لها من الفخرِ والثناء الحسن والمنافع العظيمة. وأما رحمتُهُ بالناس؛ فإنَّ أكبر نعمه عليهم أن بَعَثَ فيهم رسولاً، يتلو عليهم آياته، ويزكيِّهم، ويعلِّمهم الكتاب والحكمة فيؤمنون به، ويطيعونه، وتحصُلُ لهم سعادةُ الدنيا والآخرة. {وكان}؛ أي: وجود عيسى عليه السلام على هذه الحالة {أمراً مقضِيًّا}: قضاء سابقاً؛ فلا بدَّ من نفوذ هذا التقدير والقضاء، فنفخ جبريل عليه السلام في جيبها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔