تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 20

قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا ﴿۲۰﴾
اس نے کہا میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ مجھے نہ کسی بشر نے چھوا ہے اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔ En
مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں
En
کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ میں بدکار ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس حضرت مریم علیہا السلام باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں: ﴿ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰ٘مٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَكُ بَغِیًّا کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فتعجَّبت من وجود الولد من غير أبٍ، فقالت: {أنَّى يكونُ لي غلامٌ ولم يمسَسْني بشرٌ ولم أكُ بغيًّا}: والولد لا يوجد إلا بذلك.