اس نے کہا جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہتر ہیں، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو کہ میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔
En
ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا: ﴿مَامَكَّنِّیْفِیْهِرَبِّیْخَیْرٌ ﴾”مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے“ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجْعَلْبَیْنَكُمْوَبَیْنَهُمْرَدْمًا﴾”میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار“ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يكن ذو القرنين ذا طمع ولا رغبةٍ في الدُّنيا ولا تاركاً لإصلاح أحوال الرعيَّة، بل قصدُهُ الإصلاح؛ فلذلك أجاب طلبتهم؛ لما فيها من المصلحة، ولم يأخذ منهم أجرةً، وشَكَرَ ربَّه على تمكينه واقتداره، فقال لهم: {ما مَكَّنِّي فيه ربِّي خيرٌ}؛ أي: مما تبذلون لي وتعطوني، وإنَّما أطلب منكم أن تعينوني بقوَّةٍ منكم بأيديكم؛ {أجْعَلْ بينَكم وبينهم رَدْماً}؛ أي: مانعاً من عبورهم عليكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔