ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 95

قَالَ مَا مَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾
اس نے کہا جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہتر ہیں، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو کہ میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔ En
ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا
En
اس نے جواب دیا کہ میرے اختیار میں میرے پروردگار نے جو دے رکھا ہے وہی بہتر ہے، تم صرف قوت طاقت سے میری مدد کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 95) ➊ {قَالَ مَا مَكَّنِّيْ فِيْهِ رَبِّيْ خَيْرٌ:} ذوالقرنین نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ میری دسترس میں دیا ہے وہ تمھارے دیے ہوئے اخراجات سے کہیں بہتر ہے، سو تم خرچ کی فکر مت کرو۔ ہاں، تم عملی طور پر آدمیوں اور محنت کے ساتھ میری مدد کرو، تاکہ میں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔ اس سے ذوالقرنین کی سیر چشمی، فراخ دلی اور سخاوت نفس کے ساتھ ساتھ رعایا کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط ترین دفاع کا بندوبست کرنا واضح ہوتا ہے۔ سلیمان علیہ السلام نے بھی ملکہ سبا کو ہدیے بھیجنے پر ایسا ہی جواب بھیجا تھا: «{ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ [النمل: ۳۶] جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔ رعایا کی زندگی کے ایک ایک لمحے تک پر ٹیکس لگا دینے والے جمہوری حکمران، جو ملوکیت کو گالی قرار دیتے ہیں، رعایا کے لیے اللہ کی رحمت بننے والے ملوک کے طرز عمل سے سبق حاصل کریں۔
➋ { فَاَعِيْنُوْنِيْ بِقُوَّةٍ …: رَدْمًا } کا معنی خالی جگہ کو پتھروں سے پر کرنا اور پتھروں کی بنی ہوئی موٹی دیوار ہے، {سَحَابٌ مُرْدَمٌ } تہ بہ تہ بادل۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

95۔ 1 قوت سے مراد یعنی تم مجھے تعمیراتی سامان اور رجال کار مہیا کرو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

95۔ ذو القرنین نے جواب دیا: ”میرے پروردگار نے جو مجھے (مالی) قوت دے رکھی ہے۔ وہ بہت ہے تم بس بدنی قوت (محنت) سے میری مدد کرو تو میں [77] ان کے اور تمہارے درمیان بند بنا دوں گا
[77] چنانچہ ذو القرنین نے ان کی اس درخواست کو منظور کر لیا اور کہا تمہاری مالی امداد کی مجھے ضرورت نہیں اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ موجود ہے البتہ لیبر یا مزدور تم مہیا کر دو تو میں ایسی دیوار بنوا دوں گا۔ علاوہ ازیں مجھے کچھ لوہے کی چادریں اور دوسرا سامان تعمیر مہیا کرنا تمہاری ذمہ داری ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا: ﴿مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَهُمْ رَدْمًا میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يكن ذو القرنين ذا طمع ولا رغبةٍ في الدُّنيا ولا تاركاً لإصلاح أحوال الرعيَّة، بل قصدُهُ الإصلاح؛ فلذلك أجاب طلبتهم؛ لما فيها من المصلحة، ولم يأخذ منهم أجرةً، وشَكَرَ ربَّه على تمكينه واقتداره، فقال لهم: {ما مَكَّنِّي فيه ربِّي خيرٌ}؛ أي: مما تبذلون لي وتعطوني، وإنَّما أطلب منكم أن تعينوني بقوَّةٍ منكم بأيديكم؛ {أجْعَلْ بينَكم وبينهم رَدْماً}؛ أي: مانعاً من عبورهم عليكم.