کہا اگر میں تجھ سے اس کے بعد کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا، یقینا تو میری طرف سے پورے عذر کو پہنچ چکا ہے۔
En
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً آپ میری طرف سے (حد) عذر کو پہنچ چکے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿ قَالَاِنْسَاَلْتُكَعَنْشَیْءٍۭؔبَعْدَهَا ﴾”اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا“ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَاتُصٰحِبْنِیْ﴾”تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ ﴿ قَدْبَلَغْتَمِنْلَّدُنِّیْعُذْرًؔا﴾”آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے“ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قال} له موسى: {إن سألتُكَ عن شيءٍ} بعد هذه المرة؛ {فلا تصاحِبْني}؛ أي: فأنت معذور بذلك وبترك صحبتي، {قد بَلَغْتَ من لَدُنِّي عُذْراً}؛ أي: أعذرت مني، ولم تقصر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔