تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 73

قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِیۡ بِمَا نَسِیۡتُ وَ لَا تُرۡہِقۡنِیۡ مِنۡ اَمۡرِیۡ عُسۡرًا ﴿۷۳﴾
کہا مجھے اس پر نہ پکڑ جو میں بھول گیا اور مجھے میرے معاملے میں کسی مشکل میں نہ پھنسا۔ En
(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے
En
موسیٰ نے جواب دیا کہ میری بھول پر مجھے نہ پکڑیئے اور مجھے اپنے کام میں تنگی میں نہ ڈالیے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَلَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكان هذا من موسى نسياناً، فقال: {لا تؤاخِذْني بما نسيتُ ولا تُرْهِقْني من أمري عُسراً}؛ أي: لا تُعَسِّرْ عليَّ الأمر، واسمح لي؛ فإنَّ ذلك وقع على وجه النسيان، فلا تؤاخِذْني في أول مرة، فجمع بين الإقرار به والعذر منه، وأنَّه ما ينبغي لك أيُّها الخضر الشدَّة على صاحبك، فسمح عنه الخضر.