تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ لَاتُؤَاخِذْنِیْبِمَانَسِیْتُوَلَاتُرْهِقْنِیْمِنْاَمْرِیْعُسْرًا ﴾”میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل“ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكان هذا من موسى نسياناً، فقال: {لا تؤاخِذْني بما نسيتُ ولا تُرْهِقْني من أمري عُسراً}؛ أي: لا تُعَسِّرْ عليَّ الأمر، واسمح لي؛ فإنَّ ذلك وقع على وجه النسيان، فلا تؤاخِذْني في أول مرة، فجمع بين الإقرار به والعذر منه، وأنَّه ما ينبغي لك أيُّها الخضر الشدَّة على صاحبك، فسمح عنه الخضر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔