تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 57

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡہَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتۡ یَدٰہُ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی فَلَنۡ یَّہۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴿۵۷﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور اسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے بنا دیے ہیں، اس سے کہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انھیں سیدھی راہ کی طرف بلائے تو اس وقت وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔ En
اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے
En
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وه پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بےشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کر دیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو… اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے اور ان گناہوں کو فراموش نہ کرے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور علام الغیوب ہستی پر نظر نہ رکھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی… یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے، آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے علم ہے کہ ہدایت کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں۔
﴿ وَفِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْ٘رًا اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کر دیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔ ﴿ وَاِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰؔى فَلَ٘نْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدایت پر نہ آئیں اس وقت کبھی کیونکہ داعئ ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انھوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیے اور ان پر مہر لگا دی… تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں۔
اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لیے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه لا أعظم ظلماً ولا أكبر جرماً من عبدٍ ذُكِّر بآيات الله وبُيِّن له الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال، وخُوِّف ورُهِّب ورُغِّب، فأعرض عنها، فلم يتذكَّر بما ذُكِّر به، ولم يرجِعْ عما كان عليه، {ونسي ما قدَّمت يداه} من الذُّنوب، ولم يراقب علاَّم الغيوب؛ فهذا أعظم ظلماً من المعرض الذي لم تأتِهِ آياتُ الله ولم يُذَكَّرْ بها، ـ وإن كان ظالماً ـ؛ فإنَّه أشدُّ ظلماً من هذا؛ لكون العاصي على بصيرةٍ وعلم أعظم ممَّن ليس كذلك، ولكنَّ الله تعالى عاقبه بسبب إعراضِهِ عن آياته ونسيانِهِ لذنوبه ورضاه لنفسه حالة الشرِّ مع علمه بها، أن سدَّ عليه أبواب الهداية بأنْ جَعَلَ على قلبِهِ أكنَّةً؛ أي: أغطية محكمةً تمنعه أن يفقه الآيات وإن سمعها؛ فليس في إمكانه الفقهُ الذي يصل إلى القلب. {وفي آذانهم وقراً}؛ أي: صمماً يمنعهم من وصول الآيات ومن سماعها على وجه الانتفاع، وإنْ كانوا بهذه الحالة؛ فليس لهدايتهم سبيلٌ. {وإن تَدْعُهُم إلى الهدى فلن يَهْتَدوا إذاً أبداً}: لأنَّ الذي يُرجى أن يجيبَ الداعي للهدى من ليس عالماً، وأما هؤلاء الذين أبصروا ثم عَموا، ورأوا طريق الحقِّ فتركوه، وطريق الضلال فسلكوه، وعاقبهم الّله بإقفال القلوب والطَّبْع عليها؛ فليس في هدايتهم حيلةٌ ولا طريقٌ. وفي هذه الآية من التخويف لمن ترك الحقَّ بعد علمه أن يُحالَ بينه وبينه، ولا يتمكَّن منه بعد ذلك ما هو أعظم مرهبٍ وزاجرٍ عن ذلك.