تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً …: ” اَكِنَّةً “ ”كِنَانٌ“} کی جمع ہے، پردے۔ {” وَقْرًا “} کا معنی ہے بوجھ، بہرا پن۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کے سیدھی طرح سمجھانے سے کوئی اثر نہیں لیتا، بلکہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرم اور جھگڑالو بن جاتا ہے، اللہ کی واضح آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے کرتوتوں اور ان کے برے نتائج سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتا تو آخر کار اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور اس کے کان حق بات سننے سے بہرے ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اسے سیدھی راہ کی طرف بلائے بھی تو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی یہ کیفیت اگرچہ اس کے اپنے عمل سے پیدا ہوتی ہے، مگر خالق چونکہ ہر چیز کا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اس کیفیت کے پیدا کرنے کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر دیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه لا أعظم ظلماً ولا أكبر جرماً من عبدٍ ذُكِّر بآيات الله وبُيِّن له الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال، وخُوِّف ورُهِّب ورُغِّب، فأعرض عنها، فلم يتذكَّر بما ذُكِّر به، ولم يرجِعْ عما كان عليه، {ونسي ما قدَّمت يداه} من الذُّنوب، ولم يراقب علاَّم الغيوب؛ فهذا أعظم ظلماً من المعرض الذي لم تأتِهِ آياتُ الله ولم يُذَكَّرْ بها، ـ وإن كان ظالماً ـ؛ فإنَّه أشدُّ ظلماً من هذا؛ لكون العاصي على بصيرةٍ وعلم أعظم ممَّن ليس كذلك، ولكنَّ الله تعالى عاقبه بسبب إعراضِهِ عن آياته ونسيانِهِ لذنوبه ورضاه لنفسه حالة الشرِّ مع علمه بها، أن سدَّ عليه أبواب الهداية بأنْ جَعَلَ على قلبِهِ أكنَّةً؛ أي: أغطية محكمةً تمنعه أن يفقه الآيات وإن سمعها؛ فليس في إمكانه الفقهُ الذي يصل إلى القلب. {وفي آذانهم وقراً}؛ أي: صمماً يمنعهم من وصول الآيات ومن سماعها على وجه الانتفاع، وإنْ كانوا بهذه الحالة؛ فليس لهدايتهم سبيلٌ. {وإن تَدْعُهُم إلى الهدى فلن يَهْتَدوا إذاً أبداً}: لأنَّ الذي يُرجى أن يجيبَ الداعي للهدى من ليس عالماً، وأما هؤلاء الذين أبصروا ثم عَموا، ورأوا طريق الحقِّ فتركوه، وطريق الضلال فسلكوه، وعاقبهم الّله بإقفال القلوب والطَّبْع عليها؛ فليس في هدايتهم حيلةٌ ولا طريقٌ. وفي هذه الآية من التخويف لمن ترك الحقَّ بعد علمه أن يُحالَ بينه وبينه، ولا يتمكَّن منه بعد ذلك ما هو أعظم مرهبٍ وزاجرٍ عن ذلك.