کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔
En
کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْ ﴾ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کفار سے کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَاۤاَنَابَشَرٌمِّؔثْلُكُمْ ﴾”میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم“ یعنی میں معبود نہیں، اقتدار الٰہی میں میرا کوئی حصہ ہے نہ میرے پاس کوئی علم عیب ہے اور نہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہی ہیں: ﴿ اِنَّمَاۤاَنَابَشَرٌمِّؔثْلُكُمْ ﴾ میں اپنے رب کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں۔ ﴿ یُوْحٰۤىاِلَیَّاَنَّمَاۤاِلٰهُكُمْاِلٰ٘هٌوَّاحِدٌ ﴾”وحی آتی ہے مجھ پر کہ تمھارا معبود ایک معبود ہے“ یعنی مجھے تم پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے اور جلیل ترین وحی یہ ہے کہ اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ تمھارا معبود ایک ہے، یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ کوئی ذرہ بھر عبادت کا مستحق ہے اور میں تمھیں ان اعمال کی دعوت دیتا ہوں جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتے ہیں اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْكَانَیَرْجُوْالِقَآءَرَبِّهٖفَلْ٘یَعْمَلْعَمَلًاصَالِحًا ﴾”پس جس کو امید ہو اپنے رب سے ملاقات کی، سو وہ کرے نیک عمل۔“ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو واجب اور مستحب ہیں۔ ﴿ وَّلَایُشْ٘رِكْبِعِبَادَةِرَبِّهٖۤاَحَدًا ﴾”اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے“ یعنی اپنے اعمال میں ریا سے کام نہ لے بلکہ اس کے اعمال خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جو اخلاص اور اتباع کی جامع ہے اور اسی سے مطلوب ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ اس طریقے کے سوا دیگر طریقوں کو اختیار کرنے والے لوگ اپنی دنیا و آخرت میں خائب و خاسر لوگ ہیں۔ جو اپنے آقا و مولا کے قرب اور اس کی رضا کے حصول سے محروم ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل يا محمدُ للكفار وغيرهم: {إنَّما أنا بشرٌ مثلُكم}؛ أي: لست بإله، ولا لي شركةٌ في الملك، ولا علمٌ بالغيب، ولا عندي خزائن الله، وإنَّما أنا بشرٌ مثلكم، عبدٌ من عبيد ربي. {يوحى إليَّ أنَّما إلهكم إلهٌ واحدٌ}؛ أي: فُضِّلْتُ عليكم بالوحي الذي يوحيه الله إليَّ، الذي أجلُّه الإخبار لكم، {أنَّما إلهكم إلهٌ واحدٌ}؛ أي: لا شريك له ولا أحد يستحقُّ من العبادة مثقال ذرَّة [غيره]، وأدعوكم إلى العمل الذي يقرِّبُكم منه ويُنيلكم ثوابه ويدفع عنكم عقابه، ولهذا قال: {فَمَن كان يَرْجو لقاءَ ربِّه فليعملْ عملاً صالحاً}: وهو الموافق لشرع الله من واجب ومستحبٍّ، {ولا يُشْرِكْ بعبادةِ ربِّه أحداً}؛ أي: لا يرائي بعمله، بل يعمله خالصاً لوجه الله تعالى؛ فهذا الذي جمع بين الإخلاص والمتابعة هو الذي ينال ما يرجو ويطلب، وأما مَنْ عدا ذلك؛ فإنَّه خاسرٌ في دنياه وأخراه، وقد فاته القرب من مولاه ونيل رضاه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔