تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
واضح رہے کہ قرآن مجید کے مطابق رسول بشر ہوتا ہے، جسے اللہ رسالت کے لیے چن لیتا ہے۔ کوئی یہ کہے کہ بشر رسول نہیں ہو سکتا، یا یہ کہے کہ رسول بشر نہیں ہو سکتا، دونوں کا عقیدہ ایک ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ”ان مشرکین سے جو آپ کی رسالت کو جھٹلاتے ہیں، کہہ دیجیے کہ میں محض تمھارے جیسا ایک بشر ہوں، پھر جو شخص سمجھتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں تو جیسا کلام میں لے کر آیا ہوں وہ لے کر آئے، دیکھو میں نے عالم الغیب نہ ہوتے ہوئے ماضی کے جو واقعات (اصحاب کہف، ذوالقرنین وغیرہ کے) عین واقعہ کے مطابق تمھیں بتائے ہیں اگر اللہ تعالیٰ مجھے اطلاع نہ دیتا تو میں تمھیں کبھی نہ بتا سکتا۔“ یہ تفسیر بھی اچھی ہے۔
➋ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ …: ” يَرْجُوْا “ ”رَجَاءٌ“} کا معنی امید ہے، اس کے ضمن میں خوف بھی ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ امید پوری نہ ہو۔ غرض اس کے معنی امید اور خوف دونوں کر لیے جاتے ہیں۔ بندے اور اس کے رب کے تعلق کو نمایاں کرکے فرمایا کہ جو اپنے رب کی ملاقات اور دیدار کی امید رکھتا ہے، یا اس سے ملاقات کے وقت اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو کام ضروری ہیں، پہلا یہ کہ وہ صالح عمل کرے اور صالح عمل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے سے بتایا ہے، اس کے علاوہ سب بدعت اور گمراہی ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے، نہ کسی دوسرے کی عبادت کرکے اور نہ ریا کاری کرکے، کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری (دکھاوا) شرک اصغر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَنَا أَغْنَی الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً أَشْرَكَ فِيْهِ مَعِيَ غَيْرِيْ تَرَكْتُهُ وَ شِرْكَهُ] [مسلم، الزھد، باب تحریم الریاء: ۲۹۸۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمام حصے داروں سے کہیں زیادہ (ہر قسم کے) حصے سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے سوا کسی اور کو حصے دار بنایا تو میں اس عمل کو اور اس کے حصے کو چھوڑ دیتا ہوں۔“ یعنی میں وہ حصہ بھی قبول نہیں کرتا جو اس عمل میں سے اس نے میرے لیے کیا ہے، کیونکہ اس میں دوسرا بھی حصے دار ہوتا ہے، تو میں اپنا حصہ بھی چھوڑ کر اسی کو دے دیتا ہوں، اب وہ اس کا اجر اسی سے لے، میں تو صرف وہ عمل قبول کرتا ہوں جو سارے کا سارا میرے لیے ہو، کسی دوسرے کا اس میں حصہ نہ ہو۔ جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰهُ بِهِ، وَ مَنْ يُرَائِيْ يُرَائِي اللّٰهُ بِهِ] ”جو شخص سنانے (شہرت) کی خاطر عمل کرے اللہ تعالیٰ (اس کی بدنیتی) سب کو سنا دے گا اور جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔“ [بخاری، الرقاق، باب الریاء والسمعۃ: ۶۴۹۹]
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے، جو عیسائی تھا، جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”جو کتاب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہوئی ہے اس کا کوئی حصہ تمھیں یاد ہے تو مجھے پڑھ کر سناؤ۔“ چنانچہ جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، اللہ کی قسم! اسے سن کر نجاشی رونے لگا، حتیٰ کہ اس کی ڈاڑھی تر ہو گئی اور جتنے پادری اس کے پاس بیٹھے تھے وہ بھی رونے لگے، یہاں تک کہ ان کی کتابیں تر ہو گئیں، پھر نجاشی نے کہا: [إِنَّ هٰذَا وَاللّٰهِ! وَالَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسَی لَيَخْرُجُ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ] [مسند أحمد: 202/1، ۲۰۳، ح: ۱۷۴۵، حسنہ محققوہ] ”اللہ کی قسم! یہ کلام اور وہ کلام جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ایک ہی مشکاۃ(روشنی کے طاق) سے نکل رہا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
2۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں بھی ایک بشر ہی ہوں اور تم آپس میں جھگڑتے ہوئے میرے پاس آتے ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تم میں سے ایک فریق دلائل دینے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہوتا ہے اور میں اس کے دلائل سن کر اسی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں۔ اب اگر میں کسی فریق کو اس کے بھائی کا کچھ حق دلا دوں تو یاد رکھو میں اسے آگ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں“ [بخاري، كتاب الاحكام۔ باب موعظة الامام للخصوم]
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کو علم غیب نہیں تھا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔
3۔ سیدنا رافع بن خدیجؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور میں پیوند لگاتے تھے آپ نے پوچھا: ”یہ کیا کرتے ہو؟“ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا: ”ہم تو ایسا ہی کیا کرتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو گا“ لوگوں نے پیوند لگانا چھوڑ دیا تو کھجور پھل کم لائی۔ صحابہؓ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی ایک بشر ہی ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں بھی آخر آدمی ہی ہوں“ (یعنی مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے) [مسلم۔ كتاب الفضائل باب وجوب امتثال ماقاله، دون ما ذكره، من معائش الدنيا على سبيل الراي]
[91] یعنی جو شخص اللہ سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ ملاقات خوشگوار رہے اسے اللہ سے ڈرتے ہوئے نیک اعمال بجا لاتے رہنا چاہیے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت میں شرک کا شائبہ تک نہ ہو ایک تو خالصتاً اسی کی عبادت کرے دوسرے اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی تعظیم اور اس سے دعا کے جو طریقے مشروع ہیں وہ کسی دوسرے کے لیے بجا نہ لائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ بہت سے نیک کاموں میں باوجود مرضی الٰہی کی تلاش کے میرا ارادہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ میری نیکی دیکھیں تو میرے لیے کیا حکم ہے، آپ خاموش رہے اور یہ آیت اتری، یہ حدیث مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23427:مرسل] سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک شخص نماز، روزہ، صدقہ، خیرات، حج زکوٰۃ کرتا ہے، اللہ کی رضا مندی بھی ڈھونڈتا ہے اور لوگوں میں نیک نامی اور بڑائی بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی کل عبادت اکارت ہے، اللہ تعالیٰ شرک سے بیزار ہے، جو اس کی عبادت میں اور نیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ فرما دیتا ہے کہ یہ سب اسی دوسرے کو دے دو مجھے اس کی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/16:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہما ایک دن رونے لگے، ہم نے پوچھا، آپ کیسے رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے ایک حدیث یاد آ گئی اور اس نے رلا دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرک اور پوشیدہ شہوت کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں سنو وہ سورج چاند، پتھر، بت کو نہ پوجے گی بلکہ اپنے اعمال میں ریا کاری کرے گی۔ پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ صبح روزے سے ہے اور کوئی خواہش سامنے آئی، روزہ چھوڑ دیا [مسند احمد:124/4:ضعیف]۔
انس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، قیامت کے دن انسان کے نیک اعمال کے مہر شدہ صحیفے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ جناب باری عزوجل فرمائے گا، اسے پھینک دو، اسے قبول کرو، اسے قبول کرو، اسے پھینک دو۔ اس وقت فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم تو اس شخص کے اعمال نیک ہی جانتے ہیں، جواب ملے گا کہ جن کو میں پھینکوا رہا ہوں یہ وہ اعمال ہیں جن میں صرف میری ہی رضا مندی مطلوب نہ تھی بلکہ ان میں ریاکاری تھی۔ آج میں تو صرف ان اعمال کو قبول کروں گا جو صرف میرے لیے ہی کئے گئے ہوں۔[الدر المنثور للسیوطی:460/4:ضعیف]
ایک بہت ہی غریب حدیث حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص آیت «فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا» [الکھف: 110]، کو رات کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے اتنا بڑا نور عطا فرمائے گا جو عدن سے مکے شریف تک پہنچے۔ [مستدرک حاکم371/2:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل يا محمدُ للكفار وغيرهم: {إنَّما أنا بشرٌ مثلُكم}؛ أي: لست بإله، ولا لي شركةٌ في الملك، ولا علمٌ بالغيب، ولا عندي خزائن الله، وإنَّما أنا بشرٌ مثلكم، عبدٌ من عبيد ربي. {يوحى إليَّ أنَّما إلهكم إلهٌ واحدٌ}؛ أي: فُضِّلْتُ عليكم بالوحي الذي يوحيه الله إليَّ، الذي أجلُّه الإخبار لكم، {أنَّما إلهكم إلهٌ واحدٌ}؛ أي: لا شريك له ولا أحد يستحقُّ من العبادة مثقال ذرَّة [غيره]، وأدعوكم إلى العمل الذي يقرِّبُكم منه ويُنيلكم ثوابه ويدفع عنكم عقابه، ولهذا قال: {فَمَن كان يَرْجو لقاءَ ربِّه فليعملْ عملاً صالحاً}: وهو الموافق لشرع الله من واجب ومستحبٍّ، {ولا يُشْرِكْ بعبادةِ ربِّه أحداً}؛ أي: لا يرائي بعمله، بل يعمله خالصاً لوجه الله تعالى؛ فهذا الذي جمع بين الإخلاص والمتابعة هو الذي ينال ما يرجو ويطلب، وأما مَنْ عدا ذلك؛ فإنَّه خاسرٌ في دنياه وأخراه، وقد فاته القرب من مولاه ونيل رضاه.