تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبْنَاعَلٰۤىاٰذَانِهِمْفِیالْكَهْفِ ﴾”پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں “ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِیْنَعَدَدًا﴾”چند سال گنتی کے“ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلذلك استجاب الله دعاءهم، وقيَّض لهم ما لم يكن في حسابهم؛ قال: {فضَرَبْنا على آذانهم في الكهف}؛ أي: أنمناهم {سنينَ عدداً}: وهي ثلاثمائة سنة وتسع سنين، وفي النوم المذكور حفظٌ لقلوبهم من الاضطراب والخوف وحفظٌ لهم من قومهم، [وليكون آية بينة].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔