جب ان جوانوں نے غار کی طرف پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے کوئی رحمت عطا کر اور ہمارے لیے ہمارے معاملے میں کوئی رہنمائی مہیا فرما۔
En
جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر
ان چند نوجوانوں نے جب غار میں پناه لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِذْاَوَىالْفِتْیَةُاِلَىالْكَهْفِ ﴾”جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں “ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوْارَبَّنَاۤاٰتِنَامِنْلَّدُنْكَرَحْمَةً ﴾”پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے“ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَیِّئْلَنَامِنْاَمْرِنَارَشَدًا ﴾”اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔“ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر قصَّتهم مجملةً فصَّلها بعد ذلك فقال: {إذ أوى الفتيةُ}؛ أي: الشباب {إلى الكهف}: يريدون بذلك التحصُّن والتحرُّز من فتنة قومهم لهم، {فقالوا ربَّنا آتنا من لدُنك رحمةً}؛ أي: تُثَبِّتنا بها وتحفظُنا من الشرِّ وتوفِّقنا للخير، {وهيِّئ لنا من أمرِنا رَشَداً}؛ أي: يسِّر لنا كلَّ سببٍ موصل إلى الرشد، وأصلحْ لنا أمر ديننا ودُنيانا؛ فجمعوا بين السعي والفرار من الفتنة إلى محلٍّ يمكن الاستخفاء فيه، وبين تضرُّعهم وسؤالهم لله تيسير أمورهم وعدم اتِّكالهم على أنفسهم وعلى الخلق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔