تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 108

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبۡغُوۡنَ عَنۡہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾
ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، وہ اس سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔ En
ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے
En
جہاں وه ہمیشہ رہا کریں گے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی ان کا اراده ہی نہ ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {خالدين فيها}: هذا هو تمام النعيم، أنَّ فيها النعيم الكامل، ومن تمامه أنه لا ينقطع، {لا يبغون عنها حِوَلاً}؛ أي: تحوُّلاً ولا انتقالاً؛ لأنَّهم لا يرون إلاَّ ما يعجِبُهم ويبهِجُهم ويسرُّهم ويفرحهم، ولا يرون نعيماً فوق ما هم فيه.