ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 108

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبۡغُوۡنَ عَنۡہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾
ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، وہ اس سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔ En
ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے
En
جہاں وه ہمیشہ رہا کریں گے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی ان کا اراده ہی نہ ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 108){ لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا:} ایک جگہ زیادہ دیر رہنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، مگر جنتی جنت سے کبھی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے، کیونکہ اس سے بہتر عیش کی کوئی جگہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (31) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ [حٰمٓ السجدۃ: ۳۱، ۳۲] اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ یہ بے حد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔ اور حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ] [بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ…: ۳۲۴۴۔ مسلم: ۲۸۲۴] میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ اور ان سب نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گی، پھر جنت کی نعمتیں ہر آن نئی سے نئی ہوتی رہیں گی، نہ ختم ہوں گی نہ کہیں رکیں گی، کیونکہ وہ اللہ کے کلمۂ کن سے وجود میں آئیں گی اور اللہ کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں، دیکھیے اس سے اگلی آیت۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 یعنی اہل جنت، جنت اور اس کی نعمتوں سے کبھی نہ اکتائیں گے کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل ہونے کی خواہش ظاہر کریں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کسی اور جگہ منتقل ہونا [88] پسند نہ کریں گے“
[88] یعنی رہائش کے لحاظ سے جنت الفردوس اتنی پسند آئے گی کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل ہونا قطعاً گوارا نہ کریں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنت الفردوس کا تعارف ٭٭
اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے، ان کی باتوں پر عمل کرنے والے بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔ یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے، اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790]‏‏‏‏
یہی ان کا مہمان خانہ ہو گی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں، نہ نکلنے کا خیال آئے، نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ، نہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے۔ روز بروز رغبت ومحبت، انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لیے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {خالدين فيها}: هذا هو تمام النعيم، أنَّ فيها النعيم الكامل، ومن تمامه أنه لا ينقطع، {لا يبغون عنها حِوَلاً}؛ أي: تحوُّلاً ولا انتقالاً؛ لأنَّهم لا يرون إلاَّ ما يعجِبُهم ويبهِجُهم ويسرُّهم ويفرحهم، ولا يرون نعيماً فوق ما هم فيه.