تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 78

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا ﴿۷۸﴾
نماز قائم کر سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کا قرآن (پڑھ)۔ بے شک فجر کا قرآن ہمیشہ سے حاضر ہونے کا وقت رہا ہے۔ En
(اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے
En
نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوْكِ الشَّ٘مْسِ سورج ڈھلنے سے یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَ٘سَقِ الَّیْلِ رات کے اندھیرے تک یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں۔ ﴿ وَقُ٘رْاٰنَ الْفَجْرِ اور فجر کا قرآن پڑھنا یعنی فجر کی نماز اور اسے قرآن اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى نبيَّه محمداً - صلى الله عليه وسلم - بإقامة الصلاة تامَّة ظاهراً وباطناً في أوقاتها، {لِدُلوك الشمس}؛ أي: ميلانها إلى الأُفقِ الغربيِّ بعد الزوال، فيدخُلُ في ذلك صلاة الظهر وصلاة العصر {إلى غَسَقِ الليل}؛ أي: ظلمتِهِ، فدخل في ذلك صلاة المغرب وصلاة العشاء، {وقرآنَ الفجْرِ}؛ أي: صلاة الفجر، وسمِّيت قرآناً لمشروعيَّة إطالة القرآن فيها أطول من غيرها، ولفضل القراءة؛ حيث يشهدها الله وملائكةُ الليلِ وملائكة النهار.

ففي هذه الآية ذكرُ الأوقات الخمسة للصَّلوات المكتوبات، وأن الصَّلوات الموقعة فيه فرائضُ؛ لتخصيصها بالأمر.

وفيها أنَّ الوقت شرطٌ لصحَّة الصلاة، وأنَّه سببٌ لوجوبها؛ لأنَّ الله أمر بإقامتها لهذه الأوقات، وأنَّ الظهر والعصر يُجمعان، والمغرب والعشاء كذلك؛ للعذر؛ لأنَّ الله جمع وقتهما جميعاً.

وفيه فضيلةُ صلاة الفجر، وفضيلة إطالة القراءة فيها، وأنَّ القراءة فيها ركنٌ؛ لأنَّ العبادة إذا سُمِّيت ببعض أجزائها؛ دلَّ على فرضيَّة ذلك.