تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 75

اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾
اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب)کا مزہ چکھاتے، پھر تو اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مددگار نہ پاتا۔ En
اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے
En
پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا، پھر آپ تو اپنے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار بھی نہ پاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذًا تب یعنی اگر آپ ان کی خواہشات کی طرف مائل ہو جاتے ﴿ لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ہم ضرور چکھاتے آپ کو دگنا (عذاب) زندگی میں اور دگنا مرنے میں یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں کئی گنا عذاب دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامل ترین نعمتوں سے نوازا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل ہے۔
﴿ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہم پر مدد کرنے والا جو آپ کو نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو شر اور تمام اسباب شر سے محفوظ رکھا، آپ کو ثابت قدمی عطا کی اور صراط مستقیم کی طرف آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کسی طرح بھی مشرکین کی طرف مائل نہ ہوئے۔ پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذاً}: لو ركنت إليهم بما يهوون، {لأذقناك ضعفَ الحياة وضعفَ المماتِ}؛ أي: لأصبناك بعذابٍ مضاعفٍ في الدُّنيا والآخرة، وذلك لكمال نعمة الله عليك وكمال معرفتك. {ثمَّ لا تَجِدُ لك علينا نصيراً}: ينقذك مما يحلُّ بك من العذاب، ولكن الله تعالى عَصَمَكَ من أسباب الشَّرِّ ومن الشَّرِّ، فثبَّتك وهداك الصراط المستقيم، ولم تركَنْ إليهم بوجه من الوجوه؛ فله عليك أتمُّ نعمةٍ وأبلغ منحةٍ.