تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 74

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھے ثابت قدم رکھا تو بلاشبہ یقینا تو قریب تھا کہ کچھ تھوڑا سا ان کی طرف مائل ہوجاتا۔ En
اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے
En
اگر ہم آپ کو ﺛابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدرے قلیل مائل ہو ہی جاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْلَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے آپ کو سنبھالے رکھا بایں ہمہ اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور آپ کو گمراہی کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کر کے آپ پر احسان نہ کیا ہوتا ﴿ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْؔكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْـًٔؔا قَلِیْلًا تو قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف تھوڑا سا یعنی ان کی ہدایت کی کوشش اور چاہت میں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{و} مع هذا {لولا أن ثَبَّتْناك}: على الحقِّ وامتنَّنا عليك بعدم الإجابة لداعيهم، {لقد كدتَ تركنُ إليهم شيئاً قليلاً}: من كثرة المعالجة ومحبَّتك لهدايتهم.